شان مسیح موعود — Page 217
۲۱۷ شخص کے علوم روھانیہ کے سامنے شرمندہ ہونا پڑا۔اور ان غیبی اسرار کا کچھ پتہ نہ لگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فوجد العبدا مِن عِبَادِنَا أَتَيْنَهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمَنَهُ من لدنا علما و صفحه ۱۵۳) یہ حاشیہ صرف اس بات کو ظاہر کرنے کے لئے دیا گیا ہے کہ بعض اسرایہ غیبہ کا پتہ ایک بنی کو بھی نہیں ہوتا لیکن ایک غیر نبی کو خدا کی طرف سے ان اسٹار کا علم دے دیا جاتا ہے۔لہذا ان اسرار غیبیہ کے کسی پر ظاہر ہونے پر لوگ گنا یا منہ بنانا اچھی بات نہیں بلکہ کسی شخص کی طرف سے بعض اسرار و مراتب غیبیہ کے اظہار پر خاموشی ہی بہتر ہوتی ہے تا بعد میں حضرت موسی علیہ السلام کی طرح شرمندہ نہ ہونا پڑے۔اس عبارت سے حضرت اقدس کا مقصود یہ نہیں کہ حضرت خضر علاوات نام جو غیر نبی تھے حضرت موسی علیہ السلام سے افضل تھے مگر شیخ مصر کی صاحب اپنا مطلب سیدھا کرنے کے لئے اس عبارت کا مفہوم یہ بیان کرتے ہیں کہ ایک غیر نبی بھی نبی سے افضل ہو سکتا ہے جیسا کہ قرآن کریم مخضر کو جو غیر نبی تھا حضرت موسی سے جو ایک عظیم انسان نبی تھے افضل بتلا رہا ہے میں یہ کہنا کہ افضلیت بر نبی ثابت نہیں ہو سکتی اور تسلیم کی جا سکتی ہے جب تک افضل کہلانے والا نبی نہ ہو درست نہ رہا۔امید ہے کہ اس بات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا " ر روج اسلام صفحہ ۱۳) شیخ صاحب ! آپ پر واضح ہو کہ قرآن کریم نے تو حضرت خضر علیہ السلام