شان مسیح موعود — Page 203
اسی طرح اس فقرہ سے اگلا فقرہ بھی " اور نہ یہ ضروری ہے کہ وہ صاحب شریعت رسول کا مبیع نہ ہو، محض محدث کے لئے نہیں کہا جا سکتا کیونکہ محض محدث تو ضروری طور پر ایک نبی کے تابع ہی ہوتا ہے وہ نبی کا غیر تابع ہو ہی نہیں سکتا۔مگر یہ فقر ویتا رہا ہے کہ نبی جس کے حقیقی معنی بیان کئے جار ہے ہیں وہ ایک نجی کے تابع بھی ہو سکتا ہے اور غیر تابع بھی۔لہذا یہ قیقی نبی کی تعریف ہوئی نہ کہ محض محمدت کی ہو کہ بالضرور نبی کے تابع ہی ہوتا ہے تحقیقی نہی کی ہی یہ نشان بھی ہو سکتی ہے کہ وہ کسی دوسرے نبی کا تابع نہ ہو ہاں اس جگہ تابع کا حقیقی معنوں میں نبی ہونا بھی جائزہ قرار دے رہے ہیں۔اور ان حقیقی معنوں میں ایک امتی کا نبی ہو جانا اب قابل اعتراض قرار نہیں دیتے۔پس حضرت اقدس کے بنی کے حقیقی معنی بیان کرتے ہوئے یہ دو فقرے اس بات کا روشن ثبوت ہیں کہ حضور نے اس جگہ نبی کے ہی حقیقی معنی بیان فرمائے ہیں نہ کہ محض محدث کے حقیقی معنی نبی کے حقیقی معنیٰ بیان کرنے کے بعد حضور نے صاف لکھ دیا ہے کہ ایک امتی کو ایسا نبی قرار دینے میں کوئی محذور لازم نہیں آتا جس کے یہ معنی ہیں کہ ایک امتی بھی بنی کے ان تحقیقی معنوں میں بنی کہلا سکتا ہے اس لئے مسائل کو یہ مجھ لینا چاہیے کہ مسیح موعود کو حقیقی معنی میں ہی نبی کہا گیا ہے کیونکہ امتی کے حقیقی معنے میں بنی ہو جانے میں کوئی محذور لازم نہیں آتا یعنی امتی کا نبی ہو جانا کوئی محال اور قابل اعتراض امر نہیں کیونکہ اسی اور نبی میں تنہائن کلی کی نسبت نہیں پائی جاتی بلکہ تبائن جزئی بصورت عموم خصوص من وجہ کی نسبت پائی جاتی ہے۔پس ضمیمہ براھین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۱۳۸ میں بیان کردہ