شان مسیح موعود — Page 169
149 انبیاء علیہم السلام نہیں کہلاتے رہے۔لیکن قرآن شریف بجز نبی بلکہ رسول ہونے کے دوسروں پر علوم غیب کا دروازہ بند کرتا ہے جیسا کہ آیت لا يُظهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدَا الأَمَنِ ارتضى مِن رَّسُول سے ظاہر ہے۔پس مصنفے غیب جانے کے لئے نہی ہونا ضروری ہوا۔اور آیت انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ گواہی دیتی ہے کہ اس مصفحے اغیب سے یہ امت محروم نہیں۔اور مصنے غیب حسب منطوق آیت نبوت اور رسالت کو چاہتا ہے اور وہ طریق براہ راست بند ہے۔اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ اس موسیت کے لئے محض بروز طلبیت اور فنافی الرسول کا دروازہ کھلا ہے" ایک غلطی کا انزالہ - حاشیہ) اس عبارت سے مندرجہ ذیل امور ظاہر ہیں :۔(1) خدا تعالے کا اس امت سے وعدہ تھا کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پا ئیگی جو پہلے نبی اور صدیق پا چکے تھے۔(۴) ان انعامات میں جو اُمت کو ملنے والے تھے نبوتیں اور پیشگوئیوں کا ملنا تھا۔(۳) یہ ہوتیں اور پیشنگوئیاں ہی ایسا امر ہے جس کے رو سے تمام انبیاء کرام علیہم السلام نبی کہلاتے رہے (گویا وہ شریعت کے لانے یا براہ راست مقام نبوت پانے کی وجہ سے نبی نہیں کہلائے بلکہ ان نبوتوں اور پیشنگوئیوں کی وجہ سے نبی کہلائے چین کے اُمت محمدیہ میں بھی ملنے کا وعدہ ہے ) (۴) ان نبوتوں اور پیشگوئیوں سے مراد حسب آیت لا يظهر على