شان مسیح موعود — Page 15
بنی اسرائیل میں صدر انہی ایسے آئے جو کوئی بعد ید شریعت نہیں لائے تھے بلکہ وہ شریعت موسوی کے ہی خادم تھے (ملاحظہ ہو شہادۃ القرآن صفحہ ۴۴ و ۴۶) اور حضرت عیسی علیہ است نام کو بھی حضور نے صاحب شریعت نبی قرار نہیں دیا۔چنا نچہ حضور نے ضمیمہ تحفہ گولڑویہ میں تورات کی پیشگوئی کو ہو مثیل مومنی کی آمد سے متعلق ہے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم پر چسپاں کرتے ہوئے عیسائیوں کے اس خیال کی تردید فرمائی ہے کہ عیسی علیہ اسلام اس پیشگوئی کے مصداق تھے۔حضور نے اس جگہ حضرت مو سے علیہ اسلام کی تین خصوصیات بیان فرمائی ہیں۔اولی مونٹی نے اس دشمن کو ہلاک کیا جو اُن کی شریعت کی پہنچ کنی کرنا چاہتا تھا۔دوم موسی علیہ السلام نے کتاب اور خدا کی شریعت تو رات عنایت کی۔سوم مینی اسرائیل کو حکومت اور بادشاہت عنایت کی۔یہ خصوصیات بیان کر کے آپ لکھتے ہیں : در محضرت عیسی علیہ السلام کو حضرت موسی علیہ اسلام سے ایک ذرہ بھی مناسبت نہیں۔نہ وہ پیدا ہو کر یہودیوں کے دشمن کو ہلاک کر سکے۔نہ وہ ان کے لئے کوئی نئی شریعت لائے اور نہ انہوں نے ینی اسرائیل کے بھائیوں کو بادشاہت بخشی۔انجیل کیا تھی۔وہ صرف توربیت کے چند احکام کا خلاصہ ہے جس سے پہلے یہود بے خبر نہیں تھے گو اس پر کار بند نہ تھے " (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۹۹) پس جب حضرت عیسی علیہ السّلام جو ہمارے اور شیخ صاحب دونوں کے نزدیک مسلم نبی ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک کوئی نئی شہر ہیں