شان مسیح موعود — Page 146
پر رگڑا نہیں ہو سکتی۔بہرحال شیخ مصری صاحب کے نزدیک جو حال ضمنی وجہ افضلیت ہونے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان حکمیت ظلیہ کا ہے وہی حال ہم افضلیت کی وجہ ہونے میں حضرت اقدس کی نبوت خلیہ کا سمجھتے ہیں جس طرح سنضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ملکیت کلیہ حضرت عیسی علیہ السلام کی حکمیت مستقلہ کے مقابلہ میں شیخ مصری صاحب کے نزدیک بہت بلند درجہ کی ہے۔اسی طرح حضرت اقدس کی نبوت ظلمیہ اس شان حکمیت کے ساتھ مل کر حضرت جیسے علی است لام کی نبوت مستقلہ سے فضل ہے۔شیخ صاحب یہ نہیں کہہ سکتے کہ حضرت اقدس طی حکم ظلمی نہیں لہذا ظلی نبوت کا اس پر قیاس نہیں کیا جاسکتا کیونکہ حضرت مسیح موعود ه است: مصاف تحریہ فرما پھٹے ہوئے ہیں :- اور کوئی مرتبہ شرف و کمال کا اور کوئی مقام عزت و قرب کا بھر بیچی اور کامل متابعت اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم ہرگز حاصل کو ہی نہیں سکتے۔ہمیں جو کچھ ملتا ہے علی اور طفیلی طور پر ملتا ہے" ز ازالہ اوہام صفحہ ۱۳۸ ) پس حضرت اقدس کا حکم ہونا بھی جب ایک مرتبہ شرف و کمال ہے تو یہ مرتبہ بھی حضرت اقدس کو ظتی اور طفیلی طور پر ہی ملا ہے۔براہ راست بغیر پیروی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں ملا۔لہذا جب فلتی حکم ہونے میں شیخ مصری صاحب کے نزدیک حضرت اقدس کا مقام حضرت عیسی علیہ السلام سے بلند تر ہے اور نطقی حکومیت کی شان میں شیخ صاحب کے نزدیک حضرت اقدس حضر تحصیلی