شان مسیح موعود — Page 147
۱۴۷ علیہ اسلام سے فضل ہیں تو حضرت اقدس کی خلقی نبوت کا ملہ کو حضرت عیسی علیات سلام کی مستقلہ نبوت سے شیخ صاحب کا کم درجہ کی قرار دے کر پھر اس کا حضرت اقدس کے حضرت عیسی علیہ السلام سے اپنی تمام شان میں افضل ہونے میں دخل قرار دیتا محض تحکم ہے۔چونکہ حضرت اقدس اپنے نبی ہونے کا اپنی تمام شان میں افضل ہونے میں دخل قرار دیتے ہیں اس لئے حضرت اقدس کی شان نبوت حضرت عیسی علیہ السلام کی شان نبوت سے ناقص درجہ کی نہیں ہو سکتی کیو نکہ ناقص درجہ گی شان نبوت ایک کامل نبی کے مقابلہ میں اپنی تمام شان میں فضل ہونے کی ضمنی وجہ ہرگز نہیں ہو سکتی ہر گز نہیں ہوسکتی یا ہر گز نہیں ہو سکتی لیکن شیخ صاحب ہمیں یہی باور کرانا چاہتے ہیں کہ حضرت اقدس ہیں تو محدث اور ناقص نبی مگر آپ کی یا نقص درجہ کی نبوت حصہ بہت عیسی علیہ السلام کے بالمقابل جو کامل بنی ہیں افضل ہونے کی متمنی وجہ ہے۔چنانچہ حضرت اقدس کی نبوت کا افضلیت حل بیان کرنے کے لئے نبوت کا دخل شیخ صاحب نبوت کا دخل نہ عنوان قائم کر کے " " یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ حضرت اقدس نے نبی کہلانے کو ضمناً افضلیت کی وجہ کیوں قرار دیا ہے اور اسے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ اور کمال فیضان ثابت کرنے کا ذریعہ کیوں شہرایا ہے" یہ سوال اٹھا کر شیخ صاحب جواب میں لکھتے ہیں :- اس کی حکمت حضور کی اپنی کتاب چشمہ مسیحی " کے مندرجہ ذیل حوالوں سے واضح ہو جاتی ہے۔صفحہ ۱۴ پر حضور لکھتے ہیں :۔