شان مسیح موعود — Page 121
ہوتی ہے" (روح السلام صفحه (۳) شیخ صاحب یہ ترجمہ کر کے بتانا چاہتے ہیں کہ نبوت کا ظل محقق ولائت ہی ہوتی ہے۔لیکن شیخ صاحب کا یہ ترجمہ بالکل غلط ہے۔صحیح ترجمہ اس عبارت کا یہ ہے۔ܽܝ تمام اہل دل اس بات پر متفق ہیں کہ ولایت نبوت کا طبل ہے ا نہ کہ نبوت کا طلح ولایت ہے ) ان دونوں ترجموں کے مفہوم میں بعد المشرقین ہے۔شیخ صاحب کے ترجمہ سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نبوت کا فعل صرف ولائیت ہی ہوتی ہے۔یعنی نبوت کا ظل نبوت نہیں ہو سکتی۔احمد ہمالیہ سے تر جمہ سے ظاہر ہے۔ولائت نبوت کا ظل ہوتی ہے جس کے یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ ہر نبی کا خلیل محض دلی ہی ہوتا ہے کیونکہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا طلق نبی بھی ہوتا ہے۔ترجمہ کو شیخ صاحب نے اس طرح بگاڑا ہے کہ الولایة کے لفظ کو جو اس عبارت میں ان کا اسم ہے اپنے ترجمہ میں خیر بنا دیا ہے اور قلبی للبوة کو جو اصل جملہ میں خبر ہے ترجمہ میں مستندا بنا دیا ہے تاکہ اس غلط ترجمہ سے وہ اپنے مضمون پڑھنے والوں کے یہ ذہن نشین کرائیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک ہر نبی کا ظل صرف ایک ولی ہی ہوتا ہے حالانکہ حضرت مسیح موعود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام خاتم انیشتین کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں کہ :۔اللہ جل شانہ نے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو صاحب خاتم