شان مسیح موعود — Page 115
lla بلکہ متناقض ماننی پڑیں گی۔ایک قسم جوئی فضیلت کی تو ایسی ہوگی جو صرف ایک غیر نبی کو ایک نبی پر بھی ہو سکتی ہے۔اور دوسری قسم ایسی ہوئی فضیلت کی ہوگی جو صرف ایک نبی کو دوسرے نبی پر ہو سکتی ہے۔پس مئی سنہ کے ریویو میں مذکورہ جوئی فضیلت دوسری قسم کی ہی قرارد کی بجائے گی کیونکہ پہلی قسم کی جزئی فضیلت کے عقیدہ پر جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے ، حضرت اقدس نے قائم نہ رہنے کا اعلان فرما دیا ہے اور اس کی جگہ اپنی تمام شان میں حضرت عیسی علیہ رات سلام سے بہت بڑھ کر ہونے کا عقیدہ اختیار کیا ہے۔اور اس عقیدہ کو پہلے عقیدہ سے متناقض قرار دیا ہے جس کے یہی معنے ہو سکتے ہیں کہ یہ ایسی فضیلت ہے جو صرف ایک نبی کو نبی پر ہوسکتی ہے۔نہیں ریویو کی عبارت بہت سی باتوں میں حضرت جیسے عید است الزام ہے بڑھ کہ ہونے ہے، ایک نبی کی دوسرے نبی پر بہت سی باتوں میں فضیلت مراد ہو گی۔اور بہت کا باتوں سے بہت سی جزئیات مراد لے کر اسے صرف دوسری قسم کی ہی جوئی فضیلت کہنا جائز ہوگا جو ایک نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔اب خواہ اس فضیلت کو ایسی جزئی فضیلت قرار دیا جائے جو ایک نہی کو نبی پر ہو سکتی ہے یا اسے اپنی مجموعی شان میں ایک نی سے بڑھ کر ہونے کے معنوں میں پہلی قسم کی جزئی فضیلت کے مقابلہ میں کی فضیلت کا نام دیا جائے۔دونوں صورتوں میں حضرت اقدس نبی قرار پاتے ہیں اور شان نبوت ، دریعہ نبوت ، نفیس نبوت یا نبوت مطلقہ کے لفظ سے زمرہ انبیاء میں داخل قرار پاتے ہیں نہ کہ محض زمرہ اولیاء میں۔