شان مسیح موعود — Page 112
نبوتیں اور پیشگوئیاں ہیں جن کے رو سے انبیاء علیہم السلام مینی کہلاتے کہ ہے" ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ) اس عبارت سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس کے نزدیک تمام انبیاء کرام علیہم السلام انہیں نبوتوں اور پیشگوئیوں کی وجہ سے نبی کہناتے رہے ہیں۔جن کے اس امت میں ملنے کا وعدہ ہے۔چونکہ لغت عربی خدا کی طرف پیشگوئیاں پانے کو ہی نبوت قرار دیتی ہے۔لہذا یہ امر محقق ہو گیا کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام لغوی معنوں میں بھی نبی ہیں۔جس طرح وہ اصطلاحی معنوں میں نبی ہیں۔چونکہ شیخ مصری صاحب کے نزدیک حضرت اقدس بھی نغوی معنوں میں نہیں ہیں۔لہذا لغوی معنوں میں حضرت اقدس بھی نہ مرہ انبیاء کے فرد قرار پائے اور شیخ مصری صاحب کا یہ خیال باطل ہوا کہ حضرت اقدس زمرہ انبیاء کے فرد نہیں۔پس بعض انبیاء کا شریعت جدیدہ لاتا یا کسی دوسرے نبی کا امتی نہ ہونا۔یا مسیح موعود علیہ السلام کا نبی کے ساتھ امتی بھی ہونا یہ ان کی علیحدہ علیحدہ خصوصیات ہیں جو لغوی نبوت پر امور زائدہ ہیں۔یہ امور لغوی نبوت کا ضروری اور ذاتی جزو نہیں۔پس لغوی معنوں کے لحاظ سے میں طرح پہلے انبیاء زمرہ انبیاء کے افراد ہیں اسی طرح لغوی ستنوں کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی زمرہ انبیاء سکے فرد ہیں۔گو مصری صاحب اپنی مسلمہ اصطلاح نبوت کے لحاظ سے آپ کو نبی سمجھیں مگر لغوی معنوں میں تو حضور کے نبی ہونے سے شیخ مصری صاحب کو انکار نہیں ہو سکتا۔