شان مسیح موعود — Page 91
کسی صفت کے کمال پر ہی جا کر ملتا ہے" (روح اسلام صفحہ ۳۳) پس جب بقول شیخ مصری صاحب حضرت اقدس کو <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> کا نام حضرت اقدس کی اس تحریہ کے مطابق حضرت عیسی علیہ انت سلام سے مماثلبت تامہ رکھنے پرصفت <mark>نبوت</mark> کا بل طور پر حاصل کرنے کی وجہ سے بھی ملا ہے اور آپ سے پہلے اُمت محمدیہ کے تمام اولیاء اللہ کو نجی کا نام صفت <mark>نبوت</mark> کو کامل طور پر نہ رکھنے کی وجہ سے نہیں دیا گیا۔تو اس سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس امت محمدیہ میں سے اس وقت تک صفت <mark>نبوت</mark> کامل طور پر رکھنے کی وجہ سے کامل فنی <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> ہیں۔اور امت محمدیہ کے پہلے گزرے ہوئے اولیا ءاللہ صفت <mark>نبوت</mark> ناقص طور پر رکھنے کی وجہ سے جزوی طور پر ملی <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> ہیں۔اسی لئے انہیں خدا تعالے کی طرف سے <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> کا نام نہیں دیا گیا۔پس چونکہ وہ سب اولیاء اللہ صرف جزوی طور پر <mark>ظلی</mark> <mark>نبوت</mark> کے حامل ہیں۔اس لئے ان میں <mark>نبوت</mark> مخفی رہی۔اور حضرت مسیح موعود صفت <mark>نبوت</mark> کامل طور پر رکھنے کی وجہ سے صریح طور پر <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> کہلانے کے مستحق قرار پائے۔شیخ مصری صاحب حضرت اقدس کے صفت <mark>نبوت</mark> کامل طور پر رکھنے کی وجہ سے ہی آپ کو تمام امت میں سے <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> کا نام دیا سجانے کے مستحق قرار دیتے ہیں۔مگر وہ کہتے ہیں کہ چونکہ آپ کو <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> کا نام حضرت جیسے علیات سلام سے تکمیں مشابہت کی وجہ سے ملا ہے اس لئے آپ تشبیہ بلیغ اور استعارہ کے طور پر <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> ہیں اور بدیں وجہ زمرہ ا<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>اء کے فرد نہیں۔صل بات یہ ہے کہ احادیث نبویہ میں حضرت اقدس ، حضرت بیے علیدات کام سے مشابہت تامہ رکھنے کی وجہ سے " این مریم " یا د عیسی بن مریم