شان مسیح موعود — Page 38
حضور کو علم نہیں دیا گیا اور وہ علم حضور کو ان الفاظ میں دیا گیا۔کہ میسج محمدی ، میسج میسوی سے بڑھ کر ہے۔کہتا رہا " کے الفاظ بتلا رہے ہیں کہ کوئی وقت ہے جبتک حضور ابتدائی عقیدہ کا ہی معادہ فرماتے رہے۔آپ صاحبان اسے تریاق القلوب کی تصنیف تک کا زمانہ قرار دیتے ہیں۔اس وقت اس بحث میں پڑھنا کہ تریاق القلوب کب شروع ہوئی اور کب ختم ہوئی ، مناسب نہیں۔بہر حال حضور کے اس ابتدائی عقیدہ میں تبدیلی کا آنا حضور کی عبارت مراقبہ بانا سے واضح ہے اور وہ تبدیلی یہی ہو سکتی ہے کہ غیر نبی یعنی ولی کسی نبی سے افضل ہو سکتا ہے یا نہیں۔پہلے حضور مسلمانوں میں عام مروجہ عقیدہ کی وجہ سے اس کے قائل نہ تھے۔بعد میں غذا کی وجی نے قائل کر وا دیا۔سوال چونکہ افضل ہونے کے متعلق ہوا تھا اس لئے تبدیلی اسی عقیدہ میں ہی آتی تھی اور اسی میں آئی۔نبی اور غیر نبی کے متعلق کوئی سوال ہی نہ تھا۔اس لئے اس کو تہ یہ بحث لانے کی ضرورت ہی نہ تھی اور نہ حضور اس کو زیر بحث لائے۔سوال تو صرف اتنا ہی تھا کہ غیر نبی یعنی ولی نبی سے افضل ہو سکتا ہے یا نہیں۔حضور نے فرما دیا کہ ہو سکتا ہے گو فضیلت جزوی ہی رہے گی " ر روح اسلام صفحہ ۲۷) یہ ہے حقیقۃ الوحی کے زیر بحث حوالہ کی تشریح کے متعلق شیخ عبد الرحمن صاحب مصری کا نظریہ، شیخ صاحب کی اس تحریر سے ظاہر ہے کہ وہ جان بھی محمدعلی صالح