شان مسیح موعود — Page 232
۲۳۲ مغالطہ کا جواب با بو شاہدین صاحب کا یہ لکھنا ایک لحاظ سے صحیح تھا کہ حضرت اقدس نے ایک غلطی کا ازالہ" میں کوئی نیاد کوئی نہیں کیا۔وہی دعا دی ہیں جو ابتدا میں تھے۔کیونکہ حضرت اقدس نے ایک غلطی کا ازالہ" میں یہ بھی لکھا تھا کہ جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی نئی شریعیت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض عمل کر کے اور اپنے کھے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے “ (ایک غلطی کا ازالہ ) اس عبارت کے لحاظ سے بابو شاہدین صاحب کو یہ کہنے کا حق تھا کہ حضرت اقدس نے کوئی بنیاد کوئی نہیں کیا بلکہ وہی دعاوی ہیں جو ابتدا۔میں تھے۔یہ قول بابو صاحب کا معنوی لحاظ سے ہے کہ آپ نے کوئی بنیاد کوئی نہیں کیا۔اور اس میں کیا شک ہے کہ حضرت اقدس ابتدائے دعوئے سے اپنے آپ کو ان معنوں میں بنی اور رسول قرار دیتے رہے ہیں گو اصطانی معنوں کے مطابق حضور نبی اور رسول ہونے سے انکار کرتے رہے ہیں۔