شان مسیح موعود — Page 218
۲۱۸ کہ حضرت موسی علیہ اسلام سے ہرگز فضل نہیں کہا۔لیکن اگر اس واقعہ سے حضرت خضر کی حضرت موسی علیہ اسلام سے بعض جزوی امور میں فضل ہونے کا استنباط بھی کیا جائے تو یہ کہنا تو ہر گز درست نہ ہو گا کہ حضرت خضر علیہ السلام اپنی تمام شان میں حضرت موسی علیہ السلام سے بہت بڑھ کر تھے۔وہ صرف ان بعض اسرار کے حصول میں حضرت موسی سے جزوی طور پر افضل قرار پا سکتے ہیں جن کا علم حضرت موسی علیہ السلام کو نہیں دیا گیا تھا۔مگر حضرت اقدس کا دعو نے تو یہ ہے کہ آپ اپنی تمام نشان میں حضرت عیسے علیہ اسلام سے بہت بڑھ کر ہیں اور یہ عقیدہ آپ نے ہنوئی فضیلت کے عقیدہ کو جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے ترک کرنے کے بعد اختیار کیا ہے اور خود اس عقیدہ کو پہلے عقیدہ سے متناقض قرار دیا ہے۔پس حضرت خضر علیہ السلام سے متعلقہ عبارت کو اس بات کے ثبوت میں پیش کرنے کا کسی کو حق نہیں کہ ایسی جوئی فضیلت کے عقیدہ پر قائم نہ اپنے کے بعد بھی حضرت اقدس نے اپنی ایسی جوئی فضیلت کے ثابت کرنے کے لئے اس واقعہ کو پیش کیا ہو جو ایک غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔الحمد للہ کہ میں نے شیخ مصری صاحب کے اپنی طرف سے تمام اوہام دور کرنے کی کوشش کی ہے پس اگر وہ اور اُن کے ہوا خواہ خدا کا خوف دل میں رکھ کر سنجیدگی سے میرے اس مضمون کا مطالعہ کریں گے تو مجھے امید ہے کہ اللہ تعالے ان کی صحیح راہنمائی فرمائے گا وما توفیقی الا بالله وهو نعم المولى ونعم النصيره اشیخ منصہ کی صاحب شیخ مصری صاحب کی نا مناسب گفتار نے مصری مقدسی حضرت