شان مسیح موعود — Page 212
۲۱۲ اس شیخ صاحب کا یہ کہنا کہ ازالہ اوہام کی عبارت رجس میں حضرت اقدس نے خود کو امتی اور ناقص نبی قرار دیتے ہوئے محدث قرار دیا ہے۔ناقل) اور حقیقۃ الوحی کی عبارت میں روحیں میں حضرت اقدس نے صرف اپنے ہی چود کو تیرہ سو سال میں امتی نبی قرار دیا ہے۔تاقل، سر مو فرق ہمیں محض غلط بیانی اور مغالطہ رہی ہے کیونکہ حقیقۃ الوحی میں امتی کا لفظ نبوت کی نفی کے لئے استعمال نہیں ہوا بلکہ صرف یہ ظاہر کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے کہ مقام نبوت پر آپ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ اور کمال فیضان سے فائز ہوئے ہیں۔ازالہ اوہم میں محدث کو کامل امتی اور ناقص طور پر نبی کہا گیا ہے اور محدثین حضرت اقدس کے نزدیک امت محمدیہ میں بکثرت ہوئے ہیں جو امتی بھی ہیں اور تاقص نبی بھی لیکن امتی نبی یہ نبویت طبیہ کا ملہ تیرہ سو سال میں صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں۔شیخ صاحب حمامة البشرى شخاک کے نزدیک قوت قدسیہ کی عربی عبارت کا ترجمہ :۔اور کمال فیضان کی تشریح، " کتنے ہی حالات ہیں جو انبیاء میں اصالتاً پائے جاتے ہیں اور ہم کو ان سے افضل اور اعلیٰ سے اصل ہوتے ہیں“ صفحه ) درج کرنے کے بعد حقیقة الوحی کی عبارت ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی کے بعد کے تشریحی الفاظ : تا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ اور کمال فیضان ثابت ہو ایا میدان ثابت