شان مسیح موعود — Page 197
192 حقیقۃ الوحی کی ان دونوں عبارتوں سے ظاہر ہے کہ اولیاء اللہ یعنی محدثین تو اس امت میں ہزار ہا ہوئے مگر مستی نبی صرف ایک ہی ہوا ہے جو مسیح موعود ہے۔اور ازالہ اوہام کی عبارت کے رو سے ان ہزارہا محدثین میں امتی ہونے کے ساتھ نبوت نا قصہ کا پا یا جان ستم ہے مگر حضرت اقدس کا حقیقۃ الوحی میں تیرہ سو سال میں اب تک ایک ہی امتی نبی کا آنا قرار دینا جو مسیح موعود ہے اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ سیح موعود کا مقام حصول ثبوت میں محدثین ہمت سے بالا ہے۔محدثین ہمت تو نبوت نا قصہ رکھتے ہیں تار مسیح موعود ان کے مقابلہ میں کامل امتی نہیں ہے بچنا نچہ اسی وجہ سے حضرت اقدس اپنے سے پہلے اولیاء اللہ یعنی محمد تین کہ حقیقۃ الوحی میں بنی کہلانے کا مستحق نہیں سمجھتے اپنے آپ کو نبی کا نام پانے کے لئے تیرہ سو سال میں ایک فرد مخصوص قرار دیتے ہیں۔دیکھئے حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۳۹۱ پر حضور تحریر فرماتے ہیں:۔غرض اس حصہ کثیر جی اپنی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں گئی" اس عبارت سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس کے نزدیک آپ سے پہلے اولیا الل میں سے کسی نے بھی مکالمہ مخاطیہ الہی مشتمل بر امور غیبیہ کو کامل طور پر حاصل نہیں