شان مسیح موعود — Page 194
۱۹۴ ظاہر ہے کہ حضور نبوت تامہ کی صفت سے متصف نہیں تھے اور بدین وجہ آپ حقیقی طور پر نبیوں کے زمرہ میں بھی داخل نہیں ہو سکتے۔زمرہ انبیاء میں وہی داخل ہو گا جو صرف نبوت کی شان ہی اپنے اندر رکھتا ہوگا۔امتی کی شان سے وہ بکتی مبرا ہوگا جیسا کہ حضور اپنی کتاب ازالہ اوہام کے صفحہ ۵۳۲ ۵۳۳۱ پر آنے والے مسیح کے متعلق امتی ہونے کی علامات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- اب ان تمام اشیاء سے صاحت ظاہر ہے کہ وہ ریعنی آنے والا سیح ناقل) واقعی اور حقیقی طور پر نبوت تامہ کی صفت سے متصف نہیں ہوگا ہاں نبوت ناقصہ اس میں پائی بھائے گئی ہو دوسرے لفظوں میں محدثیت کہلاتی ہے۔۔۔۔سو یہ بات کہ اس کو امتی بھی کہا اور اس امتی نبی بھی ، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دونوں شانیں امتیت اور نبوت کی اس نہیں پائی جائیں گی جیسا کہ محدث میں ان دونوشانوں کا پایا جانا ضروری ہے۔لیکن صاحب نبوت نامہ تو صرف ایک شان نبوت ہی رکھتا ہے۔غرض محدثیت دو نو رنگوں سے رنگین ہوتی ہے اس لئے خدا تعالٰی نے براہین احمدیہ میں اس کابینہ کا نام امتی بھی رکھا اور نبی بھی۔" در ورخ اسلام صفحه ۲ (۲۹) محدث کے بالمقابل صاحب ثبوت نامہ سے مراد اس جگہ مستقل بنی اوار تشریعی نبی ہے۔