شان مسیح موعود

by Other Authors

Page 181 of 240

شان مسیح موعود — Page 181

1A1: ہے۔واضح ہو کہ یہ لفظ " صریح طور پر <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>" ناقل ) در اصل اولیاء کرام کے مقابلہ میں ہی استعمال ہوا ہے۔انہوں نے چونکہ دینی کریم صل اللہ علیہ وسلم کا۔ناقل ) کامل ع<mark>کس</mark> نہیں لیا تھا اس لئے <mark>نبوت</mark> محمدیہ ان کے وجود میں گو موجود تھی مخفی تھی۔کامل ع<mark>کس</mark> سے حضور کی مراد (یعنی حضرت میسیج موجود کے اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل ع<mark>کس</mark> قرار دینے سے مراد - ناقل) ہے ہے کہ حقیقت کے لحاظ سے کامل ہو۔ورنہ ہر ولی اور مجدد و محدت اپنے اپنے زمانہ اور اپنے اپنے دائیہ تجدید کی نسبت سے کامل ع<mark>کس</mark> ہی رکھتا تھا جس طرح کہ حفتر <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے قبل تمام ا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>اء اپنی اپنی قوم کے لئے کا مل ہی تھے لیکن حضرت <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے بالمقابل وہ ناقص ہی تھے۔ٹھیک اسی طرح پہلے تمام اولیا را اپنے اپنے حلقہ کے لئے کامل ع<mark>کس</mark> رکھنے والے ہی تھے لیکن حضرت مسیح موعود کے مقابلہ میں ان کا حاصل کردہ ٹی<mark>کس</mark> ناقص ہی تھا حضور کا لیا ہو ا<mark>کس</mark> اس انتہائی حد تک پہنچ گیا جس انتہائی حد تک <mark>کس</mark>ی امتی کے لئے اپنے <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> متبوع کی <mark>نبوت</mark> کا ع<mark>کس</mark> لینا ممکن ہے اس سے زیادہ کوئی امتی نے ہی نہیں سکتا۔امتیوں کے لئے اتنا ہی لینا مقدر ہے اس سے وہ تیار نہ کر ہی نہیں سکتے میں طرح چاند کے لئے اتنا ہی تو ہے سورج سے لینا مقدر ہے جتنا وہ چودھویں رات کو لیتا ہے" و روح اسلام ص ۳۲)