شان مسیح موعود — Page 177
ہی اس کے لوازم ذاتیہ میں سے ہے بلکہ یہ ایک امر عارض ہے اسی لئے تو شریعت جدیدہ کسی نبی کو ملتی رہی ہے اور کسی نبی کو نہیں ملتی رہی۔بلکہ غیر تشریعی قسم کے انبیاء پہلی شریعت کی تجدید و ترویج اور نفاذ ہی کے لئے آتے رہے ہیں۔حضرت شیخ محی الدین ابن العربی علیہ الرحمة عَلِمْنَا اَنَّ التَّشْرِيحَ أَمْرُ عَارِضَ بِكَونِ عيسى يَنزِلُ فِيْنَا مِنْ غَيْرِ تَشْرِيعٍ وَ هُوَ نَبي فتوحات مکیہ جلد ا صفحه ۷ھ) بلاشب" کہ ہم نے جان لیا ہے کہ شریعت کا لانا ایک امر عارض ہے دینی یہ نبوت کے لئے امر ذاتی نہیں۔ناقل ) کیونکہ عیلی علیدات لام ہم میں امر بغیر شریعت کے نازل ہوں گے اور وہ بلا شک نبی ہیں “ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی تبدیلی تعقیدہ کے بعد نعیمہ برائین احمد جلسہ تیم ما پر نبی کے حقیقی معنی بیان کرتے ہوئے شریعت کا لانا نہی کے لئے ضروری قرار نہیں دیا بلکہ آپ نے ان حقیقی معنوں میں ہی امتی کا نبی ہو جانا بھی اپنی نبوت کے پیش نظر قابل اعتراض قرار نہیں دیا۔" ایک غلطی کا ازالہ میں حضرت اقدس نے نبوتوں اور پیش گوئیوں یعنی مبشرات کی رو سے ہی تمام انبیاء علیہم السلام کا نبی کہلانا بیان فرمایا ہے۔پس مبشرات ، یعنی نیوتوں اور پیشگوئیوں کی بجائے اگر کوئی اصطلات میں معشرات منہ شریعت جدیدہ اور غیر امتی ہونے کو نبوت تا مر قرار دے تو پھر وہ تمام از بسیاء کرام