شان مسیح موعود — Page 161
141 میں <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> کے لئے امتی نہ ہونے کی شرط کو ضروری قرار <mark>نہی</mark>ں دیا اور اس طرح عرفی <mark><mark>اصطلاح</mark></mark> میں ہو محض استقرائی تھی یعنی ا<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>اء سابقین کے حالات کے پیش نظر اختیار کی گئی تھی آپ نے ترمیم فرما دی ہے۔شیخ صاحب ! آپ پر واضح ہو کہ شیر درندہ) اور بہادر انسان جیسے شیر کہا جائے نوع کے لحاظ سے بالکل ایک دوسرے کا غیر ہیں اور ا<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>ار : در <mark>مسیح</mark> موعود علیہ السلام دونوں نوع انسانی کے فرد ہیں اور انسان ب<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> بنتے رہے ہیں مگر بہادر جیسے شیر سے تشبیہ دی جائے وہ تو نوع انسانی کا فرد ہوتا ہے لیکن شیر جنگل کا درند؟ نوع انسانی کا فرد <mark>نہی</mark>ں ہوتا۔انسان تو نجی " وتے رہے ہیں مگر کبھی کوئی منگل کا دنده انسان <mark>نہی</mark>ں ہوا۔اس لئے بہادر اور شیر کی مثال نوع کے اس تفاوت کی وجہ سے بھی حضرت اقدس کی نبوت کے بارہ میں منطبق <mark>نہی</mark>ں ہو سکتی۔لیس اے شیخ صاحب ! اگر آپ اپنے عقیدہ کو ہی ملحوظ رکھتے تو اس بارہ میں صلوۃ اور نماز کی مثال دے سکتے تھے صلوۃ کے معنی لغت میں دعا کے ہیں۔اور <mark><mark>اصطلاح</mark></mark> اسلام میں نماز کے بو عبادت کا ایک خاص طریق ہے اور قیام، رکوع سجدہ اور قعدہ پر مشتمل ہوتا ہے اور وضو اس کے لئے شرط ہے۔اگر چہ صلوات کو ڈھا کے معنوں میں <mark><mark>اصطلاح</mark></mark>ی صلوۃ (نماز) <mark>نہی</mark>ں کہہ سکتے۔لیکن صلاۃ بصورت دھا اور صلوۃ بصورت نمازہ دونوں ہی عبادت کی قسمیں ہیں اس لئے یہ دونوں صلوۃ مطلقہ کا فرد ہیں۔اسی طرح شیخ صاحب کو اپنے اس عقیدہ کے لحاظ سے بھی کہ حضرت <mark>مسیح</mark> موعود لیدات لام لغوی معنوں میں <mark>نہی</mark>ں ہیں اور <mark><mark>اصطلاح</mark></mark>ی معنوں میں <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> <mark>نہی</mark>ں حضرت اقدس