شان مسیح موعود — Page 151
میں تیران تھا کہ اسی مضمون میں شیخ مصری <mark>صاحب</mark> حضرت اقدس کو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا کامل پر دنہ اور کامل قبل بھی قرار دے رہے ہیں اور پہلے اولیا کے متعلق آپ کے مقابلہ میں لکھ رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کے مقابلہ میں ان کا حاصل کردہ ع<mark>کس</mark> ناقص ہوا تھا اور حضور کا کیا ہوا ع<mark>کس</mark> اس انتہائی حد تک پہنچ گیا تھا جس انتہائی تک <mark>کس</mark>ی امتی کے لئے اپنے متبوع کا ع<mark>کس</mark> لیتا ممکن تھا " د رورج اسلام صفحه ۱۳۲ تو پھر وہ آپ کی <mark>نبوت</mark> کو نفتی <mark>نبوت</mark> نا قصہ <mark>کس</mark> طرح لکھ رہے ہیں۔یہ تو تضاد بیانی ا ہے مگر خدا کا مشکور ہے کہ شیخ نصری صبح کا بھولا شام کو گھر گیا۔<mark>صاحب</mark> نے اپنے ایک <mark>بعد</mark> کے نمون میں حضرت اقدس کی طلقی <mark>نبوت</mark> کو انتہائی کمال پر پہنچا ہوا تسلیم کر لیا ہے لہذا اگر صبح کا بھولا شام کو گھر آجائے تو اسے بھولا ہوا نہیں سمجھنا چاہئیے کی ضرب المثل پر عمل کرتے ہوئے ہم ان کے خود ہی یہ اصلاح کو لینے پر خوش ہیں۔دیکھنے شیخ <mark>صاحب</mark> پیغام ملے " مجریہ اس مہوٹہ کالم سو میں تحریر کرتے ہیں۔ستمبر تمام ا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>اء علیهم استلام محمد ا ور احمد تو سھتے لیکن یہ دونوں نام <mark>صرف</mark> حضرت <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی دیئے گئے کیونکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں یہ دونوں صفتیں اپنے انتہائی کمال کو پہنچے گئیں پیس نام ملنے کی حکمت اور ہے اور ظلی <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> ہونا امر دیگر ہے۔نام ملنے کی پیش گوئی <mark>صرف</mark> آنے والے میسج کے لئے ہی تھی۔کیونکہ ظلی <mark>نبوت</mark>