شان مسیح موعود — Page 127
فضیلت پیش کرنے کے ساتھ ہی شیخ <mark>صاحب</mark> لکھتے ہیں۔اس میں اپنی شان خیر الرسل حضرت <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آنوی خلیفہ چھونا بتلائی ہے لیکن <mark>نبوت</mark> نہیں بتلائی" (روح اسلام صفحہ ۱۴) لانکہ اس عبارت سے پہلے حضرت اقدس علیہ السلام بارش کی طرح وجی انہی سے <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کا خطاب پانے کو فضیلت کے عقیدہ میں تبدیلی کا باعث قرار دے چکے ہیں۔دوسری شق میں شیخ <mark>صاحب</mark> حقیقت الوحی کے اس سفر کی یہ بات پیش کرتے ہیں :- " بین خدا دکھلاتا ہے کہ اس رسول کے ادنی تقادم اسرائیلی مسیح ابن مریم سے بڑھ کر نہیں (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۵۰) اس کے <mark>بعد</mark> مصری <mark>صاحب</mark> یہ نوٹ لکھتے ہیں :- ان الفاظ میں بڑھ کر ہونے کی وہ حضرت <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کریم صل الله علیہ وسلم کا اونے تقادم ہونا ہی بتائی ہے نہی ہوتا نہیں بتلائی۔روح اسلام صفحہ ۱۷) حالانکہ جب حضرت اقدس اس سے پہلے صریح طور پر <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کا خطاب پانے کو فضیلت کے عقیدہ میں تبدیلی موجب قرار دے چکے ہیں تو پھر دوسری وجوہ فضیلت کے بیان پر <mark>نبوت</mark> کے فضیلت میں دخل کے جب ان کو دہرانے کی ضرورت نہ تھی۔