شان مسیح موعود — Page 233
کیونکہ ان اصطلاحی معنوں میں شریعت لانے والے اور منتقل رسولوں کو محفوظ رکھ کر نبی کی تعریف کی گئی تھی۔ہاں یہ بات مصری صاحب کی غلط ہے کہ حضرت اقدس نے ایک غلطی کا ازا نہ لکھنے کے وقت بھی اپنی نبوت سے مراد محدثیت ہی لی ہے۔کیونکہ حضور اسی اشتہار میں نبی کے یہ حتی لکھتے ہیں : حسین کے ہاتھ پر اختبار غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہوں گے با ضرورت اس پر مطابق آت لا يظهر علی غیبہ کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا اور آگے چل کر لکھا ہے:۔گر بروزی معنوں کے رو سے بھی کوئی شخص نبی اور رسول نہیں۔ہو سکتا تو پھر اس کے کیا معنی ہیں کہ اِهْدِنَا القرادا الستَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ سویاد رکھنا چاہیے کہ ان معنوں کے رو سے مجھے نبوت اور رسالت سے انکار نہیں ہے۔اسی لحاظ سے صحیح مسلم میں بھی مسیح موعود کا نام نہی رکھا گیا۔اگر خدا تعالے کی طرف سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کیس نام سے اس کو پکارا جائے۔اگر کہو اس کا نام محمدت رکھنا چاہیے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں۔مگر نبوت کے معنی اظہایہ امر نجیب ہیں ( ایک غلطی کا ازالہ)