شان مسیح موعود — Page 145
۱۴۵ نبوت ہی ہے اور شان محکمیت تو شان نبوت کے بالتبع آپ کو حاصل ہے۔پھر یہ شان حکمیت بھی آپ کو خلقی طور پر ہی حاصل ہے۔پس جب آپ خلتی حکم ہو کہ شان حکمیت میں حضرت عیسی علیہ السلام سے افضل ہیں تو آپ کی شان نبوت ظلیہ کا ملہ بھی ایسی بلندشان حکمیت کے ساتھ مل کر حضرت عیسی علیہ اسلام سے اپنی تمام نشان میں بہت بڑھ کر ہونے کا موجب ہوگی۔شیخ صاحب ! آپ نے افضلیت بر شیح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حکمیت کے ساتھ حضور کی نبوت کا بھی ضمنی دخل مان لیا ہے اور حضرت اقدس کی حکمیت اور نبوت دونوں خلتی ہیں۔تو جس طرح حضرت اقدس حضرت عیسی علیہ السلام کے بالمقابل فلی طور پر شان حکمیت رکھنے پر ان سے فضل ہیں اسی طرح حضرت اقدس اپنی شان حکمیت کے ساتھ کامل ظلی نبوت کی شان کھنے کی وجہ سے ہی حضرت عیسے عید اس نام سے اپنی تمام شان میں فضل ہیں مگر شیخ صاحب ! آپ ہمیں یہ غیر معقول بات منوانا چاہتے ہیں کہ حضرت اقدس رکھتے تو ظلی نبوت ناقصہ ہی ہیں جو حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت کے مقابلہ میں ایک ناقص درجہ کی نبوت ہے جس کا رکھنے والا آپ کے نزدیک نبی نہیں ہوتا مگر اس ناقص درجہ کی نبوت کا آپ کامل درجہ کی نبوت کے مقابلہ پر ضمنی طور پر کامل نبی سے افضلیت میں دخل بھی قرار دیتے ہیں۔آپ کی اس بات کو کون عقلمند مان سکتا ہے کہ نبوت ناقصہ نبوت کا ملہ کے مقابلہ میں ضمنی وجہ فضلیت ہو سکتی ہے۔نبوت ناقصہ ، نبوت کا ملہ کے مقابلہ میں کمتر درجہ پر ہونے کی وجہ سے ناقص اور ادنے ہونے کی وجہ تو ہو سکتی ہے، افضال ہونے کی وجہ