شانِ خاتم الانبیأ ﷺ — Page 8
A ے مکہ والو ! کیا تم میں سے کفر کرنے والے ان پہلوں سے اچھے ہیں یا پہلی کتابوں میں تمہارے لئے عذاب سے حفاظت لکھی ہوتی ہے؟ کیا وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت ہیں جو غالب آکر رہیں گے۔اُن کی جماعت کو عنقریب شکست دی جائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔اس پر شوکت خبر کے بعد کفار عرب نے ہر طرف سے تبلیغ کے دروازے بند کر رکھے تھے کہ اسی دوران یثرب (مدینہ کے چھ آدمی حج کے ایام میں آپ کی تبلیغ سے متاثر ہوکر ایمان لے آئے۔پھر واپس جا کہ اس بے جگری سے دعوت الی اللہ میں سرگرم عمل ہو گئے کہ مدینہ میں نہایت تیزی سے استلام پھیلنے لگا جب مدینہ میں لوگوں کی خاصی تعداد مسلمان ہوگئی تو کفار مکہ نے حضور کے قتل کا ناپاک منصوبہ بنایا جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ علم الہ تعالی کے حکم سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے۔اس طرح خدائی پیشگوئی کے عین مطابق اسلامی بادشاہت معرض وجود میں آگئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ میں پہنچتے ہی سب سے پہلا کام یہ کیا کہ مسجد نبوی کی صورت میں پہلے مرکزی دار تبلیغ کی تعمیر کی او مدینہ اور اس کے اردگر د اسلام کا ڈنکا بجنے لگا۔ترش کو یہ معلوم ہوا تو ان کے فقہ کی کوئی انتہا نہ رہی۔اور انہوں نے آپ کی جماعت کو تباہ کر دینے کا مصمم ارادہ کرلیا۔اور قبیلہ خزرج کے سردارعبداللہ ان کو الٹی میٹم دیا تم نے ہماے آمید آخریت صلی الہ علیہ سلم کو اپنے ہاں پناہ دے کر کوئی اچھا کام نہیں کیا۔یاتو تم اس کے خلاف جنگ کرو ، یا اپنے ہاں سے نکال دو۔ورنہ خدا کی قسم ہم اپنے آدمیوں کولے کرتم پر چڑھ آئیں گے۔تمہارے مردوں کو قتل کر دیں گے اور تمہاری عورتوں کو لونڈیاں بنالیں گے۔اس کے علاوہ انہوں نے ایک خط مدینہ کے یہودیوں کوبھی لکھا جو پہلے ہی اسلام کے سخت دشمن تھے، اور آنحضرت صلی الہ علی قم کے خلاف سخت مشتعل کیا۔ران ابتدائی کوششوں کے بعد قریش نے سنہ ہجری میں ایک بڑی فوج لے کر مدینہ پر