شانِ خاتم الانبیأ ﷺ

by Other Authors

Page 9 of 17

شانِ خاتم الانبیأ ﷺ — Page 9

پڑھائی کر دی مسلمانوں کی تعداد صرف ۳۱۳ تھی۔بدر کی پہاڑی پر مقابلہ شروع ہوا۔اتنی بڑی فوج کے مقابلہ میں گنتی کے چند نہتے اور کمزور لمانوں کی بساط ہی کیا تھی کہ رسول علی صلی اللہ علیہ وتم بارگاہ الوہیت میں سجدہ ریز ہو گئے۔اور گڑ گڑا کر دعا مانگی چند گھنٹوں کے اندر اندر فریش کو مکمل شکست ہوتی اور اُن کے بڑے بڑے آزمودہ کار جرنیل کام آئے۔قریش مکہ اگلے سال احد کے میدان میں پھر بر سیر پیکار ہوئے۔اس دفعہ بھی ان کے حملہ کا اصل مقصد آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کو شہید کرنا تھا۔لڑائی کے دوران انہوں نے آنحضور کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔مگر جاں نثار صحابہ نے آپ کی حفاظت کے لتے اپنی جانیں لڑا دیں اور دوشمن اپنے مقصد میں بری طرح ناکام رہا۔اس کے بعد انہوں نے مدینہ کے یہودیوں کے ساتھ مل کر زبر دست سازش کی۔اور شب میں عرکے تمام قبائل سمیت جو میں ہزار کی تعداد میں اسلامی حکومت پر حملہ آور ہوگئے۔تا مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بجادیں۔اور اسلام کی تبلیغ واشاعت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائے۔مسلمان عورتوں اور بچوں سمیت مسلمانوں کے لشکر کی تعداد کوئی تین ہزار ہوگی۔اتنے بڑے لشکر جبار کی آمد نے اُن پر زلزلہ طاری کر دیا۔شن کی کامیاب بنابراین می گرحملہ آور قبائل میں یکایک پھوٹ پڑگئی۔رات کو سخت آندھی چلی۔آگین بجھ گئیں۔ہر طرف بھگڈر مچ گئی۔اور سپاہیوں نے بدحواس ہو کر بھاگنا شروع کر دیا۔او جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے برسوں قبل بتلا دیا تھا، رات کے آخری تلت میں جنگ کا وہ میدان جس میں کفار کے ۲۲ ہزار سپاہی خیمہ زن تھے ، جنگل کی طرح ویران ہوگیا۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے و بنی علی الت علیہ سلم کو بذریعہ امام خبرو کہ ہم نے تمہارے دشمن کو بھگا دیا ہے۔اور سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُولُونَ الدُّبُرَ کی پیشگوئی پوری ہوگئی ہے ) غزوہ بدر ، احد اور غزوہ احزاب کی بڑی لڑائیوں کے علاوہ قریبا ۲۵ چھوٹی بڑی مہمات میں آنحضور صلی الہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو مجبورا مشغول ہونا پڑا جس سے اشاعت سلام کی راہ میں سخت رکاوٹ پیدا ہوگئی۔لیکن غزوہ احتراب کا یہ خوشگوار نتیجہ بر آمد ہوا