شانِ خاتم الانبیأ ﷺ — Page 11
اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت جلال سے پیشگوئی فرمائی کہ خدا اس کی حکومت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا بلے چنانچہ حضرت عمرہ کے عہد خلافت میں اس پر شکوہ ایرانی مملکت کے پر نچے اڑ گئے اور ہر طرف اسلامی پرچم لہرانے لگا۔خسرو پرویز نے برگستاخانہ حرکت بھی کی کہ اس نے مین کے گورنر باذان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا۔اس کی تعمیل کے لئے باذان کا سیکرٹری بانو یہ ایک مضبوط سوار کے ساتھ مدینہ پہنچا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ناصحانہ انداز میں کہا کہ بہتر ہے ہمارے ساتھ چلیں ورنہ کسری آپ کے ملک اور قوم کو تباہ کر دے گا۔آنحضرت یہ سن کر مسکراتے اور جواب میں اسلام کی تبلیغ کی اور فرمایا ، آج رات ٹھہر جاؤ کل جواب دوں گا۔اگلے روز آپ نے فرمایا ابْلِغَا صَاحِبَكُمَا أَنَّ رَبِّي قَتَلَ رَبَّهُ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ " یعنی والی یمین سے جاکر کہدو کہ میرے رب نے اس کے رب (کسرٹی) کو آج رات قتل کر دیا ہے۔بانو یہ اور اس کے ساتھی نے باذان کو آنحضرت کا پیغام پہنچا دیا۔چند روز بعد باذان کو خسرو پرویز کے بیٹے شیرویہ کا شاہی فرمان ملا کہ میرے نام پر اپنے علاقہ کے لوگوں سے اطاعت کا عہد لو۔میں نے اپنے ظالم باپ کو قتل کر دیا ہے اور قتل کا یہ واقعہ ٹھیک اسی رات ہو ا جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے بغدا سے اطلاع پائی تھی۔اس عظیم الشان معجزہ کو دیکھ کر نہ صرف گورنر باذان بلکہ مین کے کئی اور لوگ بھی مسلمان ہو گئے۔تے (۳) جريح بن مینا - مفقوقی مصر - شخص قیصر کے ماتحت مصر اور سکندریہ کا موروثی حاکم اور سیمی تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرا تبلیغی خط اسے بھجوایا۔مقوقس مصر آنحضرت کے سفیر کے ساتھ بہت عزت سے پیش آیا اور اظہار عقیدت کے طور پر اس نے کئی مخالف بھی حضور کی خدمت میں بھجوائے۔ه کتاب الاموال بحوالہ زرقانی جلد ۳ صفحه ۲۲۲ - سے " طبری جلد ۳ صفحه ۱۵۷۲-۱۵۷۴