شانِ خاتم الانبیأ ﷺ

by Other Authors

Page 10 of 17

شانِ خاتم الانبیأ ﷺ — Page 10

کہ عرب کے وہ قبائل جو دل سے صداقت اسلام تسلیم کر چکے تھے اور قریش اور ان کے حامیوں کی طاقت وسطوت سے مرعوب تھے ، مدینہ میں آآکر اسلام قبول کرنے لگے۔سنہ ہجری کی صلح حدیبیہ سے اشاعت اسلام کا سنہری باب شروع ہوا جبکہ قریش کے ساتھ صلح کا معاہدہ ہو جانے کے نتیجہ میں ملک میں عاصی امن کی صورت پیدا ہوگئی یہ آنحضرت نے اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایک ایسا اشاعتی کارنامہ سرانجام دیا جس کی مثال پہلے نیوں میں نہیں ملتی۔آپ سے قبل کسی اور نبی نے غیر قوموں کے بادشاہوں کی طرف دعوت کے خط نہیں لکھے۔کیونکہ وہ دوسری قوموں کی دعوت کے لئے مامور نہ تھے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پہلو سے بھی عالمگیر بلین کا حق ادا کر دیا۔اور عرب وعجم کے مندرجہ ذیل بڑے بڑے شہنشاہوں اور بادشاہوں اور حاکموں کے نامتبلیغی خطوط لکھوا کر بھجوائے۔(۱) ہر قتل قیصر روم۔یہ دنیا کا عظیم طاقتور عیسائی شہنشاہ تھا جس کی سلطنت ایشیاء یورپ اور افریقہ کے تین براعظموں میں پھیلی ہوئی تھی۔قیصر روم نے گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول نہیں کی مگر بہت عزت اور ادب سے پیش آیا۔اسی لئے محضور نے فرمایا کہ گندا رومی سلطنت کو کچھ مہلت دے گا یہ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اگرچہ اس کے بہت سے علاقے مسلمانوں کے خلاف جنگوں میں چھین کر اسلامی حکومت میں شامل ہو گئے ، تاہم رومی سلطنت قسطنطنیہ اور اس کے گردو نواح میں سینکڑوں سال تک قائم رہی۔(۲) خسرو پرویز کیسر کی شاہ ایران - ساسانی سلطنت کا تاجدار ) شان و شوکت اور جاہ و جلال میں دنیا کا کوئی دوسرا بادشاہ اسکے ہم پلہ نہ تھا۔اس نے قیصر روم کو پہلے در پہلے شکستیں دے کہ اس کا بہت سا علاقہ چھین لیا تھا۔اس ظالم بادشاہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نامہ مبارک کو یہ کہتے ہوئے پارہ پارہ کر دیا کہ میرا غلام ہوکر مجھے اس طرح مخاطب کرتا ہے۔کتاب الاموال بحوالہ زرقانی جلد ۳ صفحه ۳۴۲