شانِ خاتم الانبیأ ﷺ — Page 2
ذا ہر عالم کی تاریخ کا اہم ترین واقعہ ہمارے سید ولی فضل الانبار خیرالاصفیا من ملے خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور ظہور اسلام ہے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسندِ رسالت کو اپنے وجود سے عزت دی تو وہ زمانہ ایک ایسا تا ریک زمانہ تھا کہ کوئی پہلو دنیاکی آبادی کا بدملیتی اور بد عقیدگی سے خالی نہ تھا۔آریہ ورت میں بت پرستی نے خدا پرستی کی جنگلے لی تھی۔یورپ میں جہالت و وحشت کا دور دورہ تھا۔ایران میں مشرکی کا زور تھا۔اور اخلاق، تہذیب اور انسانیت کا نام ونشان تک مٹ چکا تھا۔چین میں ہر کام کے لئے جدا جدا بت مقرر تھے۔اور اہل عرب تو انتہا درجہ کی وحشیانہ حالت تک جا پہنچے تھے۔کوئی نظام انسانیت کا ان میں باقی نہ رہا تھا۔تمام معانی ان کی نظر میں فخر کی جگہ تھے۔ماؤں کے ساتھ نکاح کرنا حلال سمجھتے اور لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔بظاہر انسان تھے مگر عقلیں مسلوب تھیں۔نہ حیا تھی نہ شرم نہ غیرت - شراب کو پانی کی طرح پیتے تھے۔جس کا زنا کاری میں اول نمبر ہوتا، وہی قوم کا رتیں کہلاتا تھا۔بے علمی اس قدر تھی کہ اردگرد کی تمام قوموں نے ان کا نام اُمتی رکھا ہوا تھا۔ایسے وقت میں پیغمبر عالم حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفے صلی اللہ علیہ سلم کی عرب کے مرکزی شہر مکہ معظمہ میں ۲۰ اپریل سنکے بڑ کو ولادت با سعادت ہوئی۔اس موقع پر حضور علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ کو ایک حیرت انگیز کشفی نظارہ دکھلایا گیا۔جوحضرت علامہ جلال الدین سیوطی