شانِ خاتم الانبیأ ﷺ — Page 3
کی کتاب " الخصائص الکبری کی جلد اول میں بالتفصیل درج ہے۔حضرت آمنہ فرماتی ہیں :۔یکی نے اس وقت دنیا کے مشارق و مغارب کا معائنہ کیا، میں نے دیکھائیں جھنڈے نصب کئے گئے۔ایک مشرق اور دوسرا مغرب میں اور تیسرا کعبہ کی چھت پر نصب کیا گیا۔اس وقت مجھے در وزہ ہوا اور حضورصلی الہ علیہ کم پیدا ہوئے۔ولادت کے بعد میں نے آپ کی طرف نظر کی تو دیکھا کہ سجدے کی حالت میں ہیں اور انگلیوں کو اس طرح اُٹھاتے ہوتے ہیں جیسے کوئی گریہ وزاری کرتے والا اٹھاتا ہے۔پھر میں نے سفید ابہ دیکھا جو آسمان کی جانب سے آرہا تھا۔یہاں تک کہ اس نے آپ کو مجھ سے روپوش کر لیا۔پھر وہ غائب ہوگیا۔پھرمیں نے ایک منادی کی آواز سنی جوکہ رہا تھا۔"محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو زمین کے مشارق و مغارب میں لے جاؤ۔اور سمندروں کی سیر کہ او تاکہ وہ سب آپ کے نام نامی، اوصاف گرامی اور صورت گرامی کو پہچان لیں اور جان لیں کہ آپ کا اسم گرامی اور نام نامی دریاؤں میں مامی رقم کیاگیا ہے۔کیونکہ شرک اور اس کے لوازمات و اسباب کو آپ کے زمانہ ہی مٹا دیا جائے گا۔پھر وہ ابر جلد ہی آپ کے پاس سے ہٹ گیا۔اس وقت میں نے دیکھا کہ آپ سفید اون کے کپڑے میں ملبوس ہیں اور آپ کے نیچے سبز تریر کا بچھونا ہے۔اور آپ آبدار موتیوں کی تین گنجیاں ہاتھ میں لئے ہوتے ہیں۔اس وقت کسی کہنے والے نے کہا محمد (صلی اللہ علیہ ولیم نے نصرت ، غلبہ اور نبوت کی کنجیاں دست مبارک میں لے رکھی ہیں۔اس کے بعد ایک اور ابر سامنے آیا۔اس میں گھوڑوں کے ہنہنانے اور پرندوں کے بازوؤں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔یہاں تک کہ اُس نے بھی آپ کو مجھ سے پوشیدہ کر دیا۔اور آپ میری نظر سے اوجھل ہو گئے میں نے منادی کو بلا کرتے سنا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو شرق و غرب اور انبیاء علیہم السلام کی مولدات پر لے جاؤ اور آپ کے حضور جن و انس اور دخوش وطیور کی روحوں کو پیش کرو۔اور آپ کو حضرت آدم کی صفا، حضرت نوح کی رقت ، حضرت ابراہیم کی قلت ، حضرت اسماعیل کی