شیطان کے چیلے — Page 42
42 عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيمٍ ( الج:56) ترجمہ :۔اور کافر اس کے متعلق اس وقت تک کہ گھڑی اچانک آجائے یا ان کے پاس اس دن کا عذاب آ جائے جو اپنے پیچھے کچھ نہیں چھوڑتا، شبہ میں پڑے رہیں گے۔پس اللہ تعالیٰ کے اس قول لَا يَزَالُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي مِريَةٍ مِّنْهُ “ سے یہ ثابت ہوا کہ انکار کرنے والے اس کے بارہ میں ہمیشہ شک میں رہیں گے کہ علامات قطعیہ جو شک کو ختم کرنے والی ہیں اور ظاہری علامات جو قرب قیامت کی نشاندھی کرتی ہیں وہ کبھی بھی ظاہر نہ ہوں گی بلکہ صرف نظریاتی نشانیاں ظاہر ہوں گی جو تاویلات کی محتاج ہوتی ہیں اور وہ بھی سوائے استعارات کے رنگ کے ظاہر نہ ہوں گی۔ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آسمان کے دروازے کھل جائیں اور عیسی لوگوں کی نظروں کے سامنے اتر آئیں اور ان کے ہاتھ میں ہتھیار بھی ہو اور ان کے ساتھ فرشتے بھی اتریں اور زمین پھٹ جائے اور اس میں سے ایک عجیب قسم کا کیڑا نکلے جولوگوں سے کلام کرے کہ یقینا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ( پسندیدہ اور ) اصل دین اسلام ہی ہے اور یا جوج و ماجوج بھی اپنی مغربی صورت اور لمبے کانوں کے ساتھ خروج کریں اور دقبال کا گدھا بھی نکلے اور لوگ اس کے کانوں کے درمیان ستر ہاتھ کا فاصلہ بھی دیکھیں اور دقبال بھی خروج کرے اور لوگ اس کے ساتھ جنت اور آگ نیز اس کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے خزانے دیکھیں اور سورج مغرب سے طلوع کرے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے خبر دی اور لوگ آسمان سے متواتر آوازیں سنیں کہ یقیناً مہدی خلیفہ اللہ ہے ان سب کے باوجود کافروں کے دل میں شک وشبہ باقی رہے۔اسی لئے میں نے متعدد بار اپنی کتب میں لکھا ہے کہ یہ سب استعارے ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کی آزمائش چاہتا ہے تا کہ وہ جان لے کہ کون اپنے نور قلب سے اس کو پہچانتا ہے اور کون گمراہ ہونے والوں میں سے ہے۔اگر ہم فرض کر لیں کہ یہ علامات اپنی ظاہری شکل میں ظاہر ہوں گی تو کوئی شک نہیں کہ اس کے لازمی نتائج یہ کھلیں گے کہ تمام کے تمام لوگوں کے دلوں سے شک وشبہ اور تردد دور ہو جائے گا جس طرح کہ قیامت کے دن دور ہوگا۔پس جب شکوے دور ہو جائیں اور پر دے اٹھ جائیں تو مغرب سے تعلق رکھنے والی خوفناک علامات کے منکشف ہو جانے کے بعد ان ایام میں اور قیامت کے دن میں کیا فرق باقی رہ جائے گا۔