شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 588 of 670

شیطان کے چیلے — Page 588

585 ہے کہ انجیل میں تثلیث کی تعلیم نہیں۔اب یہ سوال ہوگا کہ عیسائی مذہب میں تثلیث کہاں سے آئی ؟ اس کا جواب محقق عیسائیوں نے یہ دیا ہے کہ یہ تثلیث یونانی عقیدہ سے لی گئی ہے۔یونانی لوگ تین دیوتاؤں کو مانتے تھے جس طرح ہندو ترے مورتی کے قائل ہیں۔اور جب پولوس نے یہودیوں کی طرف رخ کیا اور چو نکہ وہ یہ چاہتا تھا کہ کسی طرح یونانیوں کو عیسائی مذہب میں داخل کرے اس لئے اس نے یونانیوں کو خوش کرنے کے لیے بجائے تین دیوتاؤں کے تین اقنوم اس مذہب میں قائم کر دیئے۔ورنہ حضرت عیسی کی بلا کو بھی معلوم نہ تھا کہ اقوم کس چیز کا نام ہے۔ان کی تعلیم خدا تعالیٰ کی نسبت تمام نبیوں کی طرح ایک سادہ تعلیم تھی کہ خدا واحد لاشریک ہے۔پس یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ مذہب جو عیسائی مذہب کے نام سے شہرت دیا جاتا ہے دراصل پولوی مذہب ہے، نہ مسیحی کیونکہ حضرت مسیح نے کسی جگہ تثلیث کی تعلیم نہیں دی اور وہ جب تک زندہ رہے خدائے واحد لاشریک کی تعلیم دیتے رہے اور بعد وفات کے ان کا بھائی یعقوب بھی جو ان کا جانشین تھا اور ایک بزرگ انسان تھا تو حید کی تعلیم دیتا رہا۔اور پولوس نے خوامخوہ اس بزرگ سے مخالفت شروع کر دی اور اس کے عقائد صحیحہ کے مخالف تعلیم دینا شروع کیا۔اور انجام کار پولوس اپنے خیالات میں یہاں تک بڑھا کہ ایک نیا مذ ہب قائم کیا۔اور توریت کی پیروی سے اپنی جماعت کو بکلی علیحدہ کر دیا اور تعلیم دی کہ مسیحی مذہب میں مسیح کے کفارہ کے بعد شریعت کی ضرورت نہیں اور خونِ مسیح گناہوں کے دور کرنے کیلے کافی ہے۔توریت کی پیروی ضروری نہیں۔اور پھر ایک اور گنداس مذہب میں ڈال دیا کہ ان کے لیے سو رکھانا حلال کر دیا۔حالانکہ حضرت مسیح انجیل میں سور کو نا پاک قرار دیتے ہیں تبھی تو انجیل میں ان کا قول ہے کہ اپنے موتی سوروں کے آگے مت پھینکو۔پس جب پاک تعلیم کا نام حضرت مسیح نے موتی رکھا ہے تو اس مقابلہ سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ پلید کا نام انہوں نے سور رکھا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ یونانی سو رکھایا کرتے تھے جیسا کہ آجکل تمام یورپ کے لوگ سؤ رکھاتے ہیں۔اس لئے پولوس نے یونانیوں کے تالیف قلوب کے لئے سو ر بھی اپنی جماعت میں حلال کر دیا۔حلانکہ توریت میں لکھا ہے کہ وہ ابدی حرام ہے اور اس کا چھونا بھی ناجائز ہے۔غرض اس مذہب میں تمام خرابیاں پولوس سے پیدا ہوئیں۔حضرت مسیح تو وہ بے نفس انسان تھے جنہوں نے یہ بھی نہ چاہا کہ کوئی ان کو نیک انسان کہے مگر پولوس نے ان کو خدا بنادیا۔جیسا کہ انجیل میں لکھا ہے کہ کسی نے حضرت مسیح سے کہا کہ اے نیک استاد! انہوں نے اس کو کہا کہ تو مجھے