شیطان کے چیلے — Page 587
584۔علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ اے عیسی ایک مکان سے دوسرے مکان کی طرف نقل کرتا رہ یعنے ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف جا۔تا کہ کوئی تجھے پہچان کر دکھ نہ دے۔اور پھر اسی کتاب میں جابر سے روایت کر کے یہ حدیث لکھی ہے کان عیسی ابن مريم يسيح فاذا امسى اكل بقل الصحرا ويشرب الـمــاء القــراح (جلد دوم صفحہ 17) یعنی حضرت عیسی علیہ السلام ہمیشہ سیاحت کیا کرتے تھے اور ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف سیر کرتے تھے اور جہاں شام پڑتی تھی تو جنگل کے بقولات میں سے کچھ کھاتے تھے اور خالص پانی پیتے تھے۔اور پھر اسی کتاب میں عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے۔جس کے یہ لفظ ہیں۔” قال احب شي الى الله الغرباء قيل اى شى الغرباء قال الذين يفرون بدينهم ويجتمعون الى عیسی ابن مریم ( جلد 6 صفحہ 51) یعنی فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ، سب سے پیارے خدا کی جناب میں وہ لوگ ہیں جو غریب ہیں۔پوچھا گیا کہ غریب کے کیا معنی ہیں کہا وہ لوگ ہیں جو عیسی مسیح کی طرح دین لے کر ملک سے بھاگتے ہیں۔( مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 56،55) قارئین کرام ! اس تحریر سے جیسا کہ ظاہر ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے احادیث نبویہ کے ذریعہ واقعہ صلیب کے بعد حضرت عیسی کی ہجرت اور پھر 125 سال کی لمبی عمر پا کر وفات پانے کے دلائل مہیا فرمائے ہیں۔جبکہ کتاب ” انجام آتھم “ والے اقتباس میں آپ نے قرآنِ کریم کی روشنی میں حضرت عیسی کی وفات اور آپ کے بعد عیسائیوں کے شرک میں مبتلا ہو جانے کا ذکر فرمایا ہے۔ان دونوں تحریروں میں ایک ذرہ برابر بھی اختلاف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں۔پس ان پر الیاس ستار کا اعتراض ایک فضول حرکت ہے۔اگر وہ قرآن اور حدیث میں بیان شدہ سچائیوں کو نہیں مانا چاہتا تو الگ بات ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں کو اپنی ذھنی الجھن اور انتشار کا نشانہ بنانے کا اسے کوئی حق نہیں ہے۔تیسری عبارت، جو تضاد ثابت کرنے کے لیے الیاس ستارز پر تنقید لایا ہے، وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ”چشم مسیحی کی ہے۔وہ پوری عبارت سیاق و سباق سمیت درج ذیل ہے۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: " انجیل میں بھی جہاں جہاں تعلیم کا بیان ہے ان تمام مقامات میں تثلیث کی نسبت اشارہ تک نہیں 66 بلکہ خدائے واحد لاشریک کی تعلیم دیتی ہے۔چنانچہ بڑے بڑے معاند پادریوں کو یہ بات مانی پڑی