شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 578 of 670

شیطان کے چیلے — Page 578

575 الفاظ يباشر وهو صائم کے بالمقابل رکھ کر کوئی ایماندار شخص یہ کہنے کی جرأت کر سکتا ہے کہ دونوں جگہ ایک ہی چیز کی نفی اور ایک ہی چیز کا اثبات کیا گیا ہے۔ظاہر ہے کہ حدیث مندرجہ بالا میں مباشرت سے مراد مجامعت نہیں۔بلکہ محض عورت کے قریب ہونا ہے اور اس پر قرینہ اسی روایت کا اگلا جمله و کــــان امـلـكـم لاربہ ہے، لیکن اس کے برعکس قرآن مجید میں جب لفظ مباشرت آیا ہے وہاں اس سے مرا د مجامعت“ ہے۔پس گو دونوں جگہ لفظ ایک ہی استعمال ہوا ہے مگر اس کا مفہوم دونوں جگہ مختلف ہے اور سیاق وسباق عبارت سے ہمارے لیے اس فرق کو سمجھنا نہایت آسان ہے۔(۲):۔پھر اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے۔إِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ (الانفال:3) کہ جب مومنوں کے سامنے اللہ تعالی کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے دل جوش مارنے لگ جاتے ہیں۔مگر دوسری جگہ فرمایا۔الابذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد : 29) کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے دلوں میں سکون اور اطمینان پیدا ہوتا ہے۔(۳):۔اسی طرح قرآن مجید میں ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى (النجم :3) که رسول خدا عضال نہیں ہوئے اور نہ راہ راست سے بھٹکے لیکن دوسری جگہ فرمایا۔وَ وَجَدَ كَ ضَالأَفَهَدی (الضحی :8) کہ اے رسول ! ہم نے آپ کو ضال‘ پایا اور آپ کو ہدایت دی۔دونوں جگہ لفظ ”ضال ہی استعمال ہوا ہے۔ایک جگہ اس کی نفی کی گئی ہے تو دوسری جگہ اسی کا ا ثبات ہے، کیا کوئی ایماندار کہہ سکتا ہے کہ ان دونوں عبارتوں میں تناقص یا تضاد ہے۔ہرگز نہیں ، کیونکہ ہر اہلِ علم ان عبارتوں کے سیاق و سباق سے سمجھ سکتا ہے کہ دونوں جگہ لفظ ” ضال“ ایک ہی معنے میں استعمال نہیں ہوا۔بلکہ دونوں جگہ اس کا مفہوم مختلف ہے۔ایک جگہ گمراہ مراد ہے اور اس کی نفی ہے۔تو دوسری طرف تلاش کرنے والا قرار دینا مقصود ہے اور وہاں اس امر کا اثبات ہے۔ظاہر ہے کہ قرآن کریم اختلاف سے پاک ہے۔لیکن الیاس ستار کے طریق کے مطابق اس میں ( نعوذ باللہ ) اختلاف ثابت ہوتا ہے۔مگر انصاف پسند نظر اور بصیرت کی آنکھ تو ان آیات میں یا حدیث نبوئی میں بیان ہوئے الفاظ کو ان کے سیاق و سباق اور موقع محل کو مد نظر رکھتی ہوئی ان کو الگ معانی ومفہوم پہنائے گی۔تاکہ اصل مقصد جو ان الفاظ کو بیان کرنے کا ہے وہ بغیر تضاد اور اختلاف کے ظاہر ہو جائے۔یہی حال