شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 549 of 670

شیطان کے چیلے — Page 549

545 کاروں کا یہ قافلہ جو اسلام آباد کی طرف روانہ ہوا تھا اس نے تھوڑی دیر بعد اپنا رخ جہلم کی طرف کر لیا جہاں مرزا طاہر احمد کے کزن مرزا منیر احمد کی فیکٹری تھی اور جہاں مرزا طاہر احمد قیام کیا کرتے تھے۔مرزا طاہر احمد کی لندن روانگی کو اس حد تک خفیہ رکھا گیا کہ ربوہ میں رہائش پذیر احمد یوں کو بھی اس کا علم نہیں تھا یہاں تک کہ مرزا طاہر احمد کے ساتھ جانے والی ان کی تین بیٹیاں بھی اس بات سے بے خبر تھی کہ وہ لندن جا رہے ہیں۔خفیہ ایجنسیوں کے دو گروپوں نے اسلام آباد یہ اطلاع بھی دی کہ مرزا طاہر احمد جھنگ کے راستے کراچی کے لئے روانہ ہو گئے ہیں۔لیکن اعلیٰ حکام نے ان رپورٹوں کو قابل توجہ نہیں سمجھا کیونکہ ان کے پاس چار دوسری رپورٹیں موجود تھیں جن کے مطابق مرزا طاہر احمد اسلام آباد آ رہے تھے۔بہر حال مرزا طاہر احمد اور ان کے ساتھیوں کا کراچی تک کا سفر تو آسانی سے گزر گیا لیکن کراچی ایئر پورٹ پر ایک گھنٹہ ان کے لئے بہت بھاری تھا جو پرواز کے لیٹ ہونے کی وجہ سے ان پر گزرا۔پرواز کا وقت 30 اپریل کو صبح 2 بجے کا تھا۔2 بج چکے تھے لیکن جہاز اڑنے کا نام نہیں لے رہا تھا حالانکہ انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ پرواز لیٹ نہیں ہوگی۔K۔L۔M کا مینجر مرزا طاہر احمد کے پاس آیا اور کہا کہ پرواز لیٹ ہونے میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہے بلکہ ایئر پورٹ حکام پرواز کی اجازت نہیں دے رہے۔ادھر ایئر پورٹ حکام اپنی پریشانی میں مبتلا تھے۔ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کیا جائے۔ان کے سامنے مرزا طاہر احمد کا پاسپورٹ پڑا ہوا تھا اور ساتھ جنرل ضیاء الحق کے دستخطوں سے جاری کیا گیا ایک لیٹر بھی موجود تھا جس میں جنرل ضیاء الحق نے ہدایت کی تھی کہ مرزا ناصر احمد جو خود کو احمد یہ تحریک کا خلیفہ کہتا ہے کو پاکستان چھوڑنے کی اجازت نہ دی جائے۔وقت رکتا محسوس ہو رہا تھا۔ایئر پورٹ حکام نے متعدد ٹیلی فون کئے ، ہدایات لینا چاہیں لیکن رات 2 بجے انہیں کون ملتا۔فیصلہ یہ ہوا کہ پابندی تو مرزا ناصر احمد پر لگائی گئی جو دوسال قبل فوت ہو چکے ہیں لہذا جنرل ضیاء الحق کا یہ حکم اب قابل عمل نہیں رہا۔جبکہ اطلاع یہ بھی تھی کہ احمدیوں کا خلیفہ اسلام آباد کی طرف جا رہا ہے۔چنانچہ مرزا طاہر احمد کو جانے کی اجازت دے دی گئی۔رات تین بجے K۔L۔M کی پرواز نے