شیطان کے چیلے — Page 495
491 ہوئی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور موعود مسیح اور معہود مہدی تھا۔آپ کے دعوی کے بعد خدا تعالیٰ نے چاند اور سورج کے گرہن کی گواہی بھی بھیجی اور آپ ہی کو اپنے نبی کریم ﷺ کے نمونہ پر وحی اللہ پانے میں تمھیں برس کی مدت عطا کی۔آپ نے فرمایا: اس امت میں وہ ایک شخص میں ہی ہوں جس کو اپنے نبی کریم کے نمونہ پر وحی اللہ پانے میں تئیس برس کی مدت دی گئی ہے اور تئیس برس تک برابر یہ سلسلہ ہوتی جاری رکھا گیا۔" (اربعین نمبر 3۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 409) آخر میں راشد علی اور اس کے پیر کو جھوٹا اور ناکام ثابت کرنے کے لئے ایک بار پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چینج پیش کیا جارہا ہے کہ اگر وہ " اپنے دعوے میں صادق میں یعنی اگر یہ بات صحیح ہے کہ کوئی شخص نبی یا رسول اور مامور من اللہ ہونے کا دعوی کر کے اور کھلے کھلے طور پر خدا کے نام پر کلمات لوگوں کو سنا کر پھر باوجود مفتری ہونے کے برابر تمھیں (23) برس تک جو زمانہ وحی آنحضرت یہ ہے زندہ رہا ہے تو علی میں ایسی نظیر پیش کرنے والے کو بعد اس کے جو مجھے میرے ثبوت کے موافق یا قرآن کے ثبوت کے موافق ثبوت دے دے پانسور و پیہ نقد دوں گا۔“ اربعین نمبر 3 - روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 402) مفتری ہوتا ہے آخر اس جہاں میں رُوسیاہ جلد تر ہوتا ہے برہم افتراء کا کاروبار افتراء کی ایسی دُم لمبی نہیں ہوتی کبھی جو ہو مثلِ مدتِ فخر الرسل خیر الدیار آسماں میرے لئے تو نے بنایا اک گواہ چاند اور سورج ہوئے میرے لئے تاریک و تار