شیطان کے چیلے — Page 460
456 ہیں اور کہتے ہیں ہمیشہ کی طرح کیا جانے والا جادو ہے۔اور انہوں نے جھٹلا دیا اور اپنی خواہشات کی پیروی کی۔اصل بات یہ ہے کہ ایسا نہ تو کبھی ہوا ہے نہ ہو سکتا ہے کہ ماموروں اور مرسلوں کے زمانہ اور ان کی ذات کی طرف ایسے الفاظ میں رہنمائی کی جائے کہ گویا متلاشی کے ہاتھ میں ان کا ہاتھ دیدیا جائے کیونکہ اگر اس طرح کیا جائے تو ایمان بے فائدہ ہو جائے اور کافر اور مومن کی تمیز مٹ جائے۔ہمیشہ ایسے ہی الفاظ میں ماموروں کی خبر دی جاتی ہے جن سے ایمان اور شوق رکھنے والے ہدایت پالیتے ہیں اور شریر اپنی ضد اور اڑی کے لئے کوئی آڑ اور بہانہ تلاش کر لیتے ہیں۔چڑھے ہوئے سورج کا کون انکار کر سکتا ہے مگر اس پر ایمان لانے کا نہ ثواب ہے نہ اجر۔پس ہمیشہ سے یہی ہوتا آیا ہے کہ ایک حد تک راہنمائی مہیا کی جاتی ہے اور ایک حد تک اخفاء ضرور رکھا جاتا ہے اور ایمان کا تقاضہ ہے کہ ایسا ہونا بھی چاہئے۔مسیح موعود کے زمانہ کی خبروں میں بھی اسی اصل کو مد نظر رکھا گیا ہے اس کے زمانہ کی خبریں ایسے الفاظ میں دی گئیں ہیں کہ جس قسم کے الفاظ میں تمام گذشتہ انبیاء کے متعلق خبریں دی جاتی رہی ہیں۔ایک بچے متلاشی اور صاحب بصیرت کے لئے وہ ایک روشن نشان سے کم نہیں۔وہ شخص جس نے کسی ایک نبی کو دلائل کے ذریعہ مانا ہو اور صرف نسلی ایمان پر ہی کفایت نہ کئے بیٹھا ہو اس کے لئے ان نشانات سے فائدہ اٹھانا کچھ بھی مشکل نہیں۔مگر وہ لوگ جو بظاہر سینکڑوں رسولوں پر پیدائشی طور پر ایمان لاتے ہیں لیکن در حقیقت ایک رسول کو بھی انہوں نے اپنی تحقیق سے نہیں مانا، ان کے لئے کسی راستباز کا مانا خواہ وہ کتنے ہی نشان اپنے ساتھ کیوں نہ رکھتا ہو ، نہایت مشکل ہے۔اور خاص طور پر وہ راشد علی کی قماش کے کج بحث ہوں ، ان کے لئے ایمان لانانا ممکن ہو جاتا ہے۔کیونکہ وہ ختم الله علی قلوبھم کے زمرہ میں داخل ہوتے ہیں۔پس نسلی اور پیدائشی طور پر کسی مذہب کا پیرو ہونے والوں کا اپنا ایمان در حقیقت کوئی وجود نہیں رکھتا ، ان کا ایمان وہی ہوتا ہے جو ان کے علماء یا مولوی کہہ دیں یا جو باپ دادا کی باتیں ان کے کانوں تک پہنچی ہوں۔پس یہ اسی وقت کسی رسول کو پہچان سکتے ہیں جبکہ پہلے اپنی نظر کی اصلاح آسمانی ہدایت کے سرمہ سے کر لیں اور انسانی اقوال اور رسوم کی تقلید کے خمار کو اپنی عقل سے دور کر دیں۔آسمانی ہدایت کے جو سامان مسیح و مہدی کی ساعت کی علامات اور اس کی شناخت کے لئے خدا