شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 461 of 670

شیطان کے چیلے — Page 461

457 تعالیٰ نے مہیا فرمائے ان میں سے چند ایک بطور نمونہ ملاحظہ فرمائیں۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو سورج قرار دیا ہے۔فرمایا: -1 يْأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًاO وَدَاعِيًا إِلَى اللهِ بِإِذْنِ وَسِرَاجًا مُّنِيْرًا (الاحزاب : 47،46) ترجمہ : اے نبی ! ہم نے تجھے اس حال میں بھیجا ہے کہ تو ( دنیا کا نگران بھی ہے (مومنوں کو ) خوشخبری دینے والا بھی ہے اور ( کافروں کو ڈرانے والا بھی ہے۔اور نیز اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور ایک چمکتا ہوا سورج بنا کر بھیجا ہے)۔چنانچہ پیشگوئی تھی کہ اس زمانہ میں لوگ شمس الہدی ﷺ کی روشنی سے استفادہ کرنا چھوڑ دیں گے۔فرمایا : " ” إِذَا الشَّمْسُ كُوّرَتْ۔“ ترجمہ: جب ( نور ) آفتاب کو لپیٹ دیا جائے گا۔-2 اس زمانہ کے علماء بھی روحانی نور سے خالی ہو جائیں گے۔وَإِذَا النُّجُومُ انْكَدَرَتْ O ترجمہ: اور جب ستارے دھندلے ہو جائیں گے۔۔اس زمانہ میں نئی نئی سواریاں ایجادہوں گی۔وَإِذَا العِشَارُ عُطِّلَتْ۔ترجمہ: اور جب دس مہینے کی گا بھن اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی۔(التکویر 2) (التکویر (3) (التكوير :5) اس آیت کی تفسیر آنحضرت ﷺ نے خود فرمائی ہے اور اسے آخری زمانہ سے متعلق قرار دیا۔فرمایا: لتتركن القلاص فلايُسعى عليها - (مسلم کتاب الایمان۔باب نزول عیسی ابن مریم ) یعنی جوان اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی اور ان پر سفر نہیں کیا جائے گا اس حدیث سے جہاں یہ تصدیق ہوتی ہے کہ یہ علامت امام مہدی کے زمانہ کی ہے وہاں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس سورۃ میں اسی قسم کی