شیطان کے چیلے — Page 449
445 ہے؟ کیا وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت پا کر نہیں آیا؟ کیا اس کے پاس اس قدر جواہرات وخزائن واموال معارف و دقائق نہیں ہیں کہ لوگ لیتے لیتے تھک جائیں اور اس قدر ان کا دامن بھر جائے جو قبول کرنے کی جگہ نہ رہے پس اگر یہ سچ ہے تو اس وقت دوسرے مہدی کی ضرورت ہی کیا ہے اور یہ صرف امامین موصوفین کا ہی مذہب نہیں۔بلکہ ابن ماجہ اور حاکم نے بھی اپنی صحیح میں لکھا ہے لا مهدی الأ عیسی یعنی بجز عیسی کے اس وقت کوئی مہدی نہ ہوگا اور یوں تو ہمیں اس بات کا اقرار ہے کہ پہلے بھی کئی مہدی آئے ہوں اور ممکن ہے کہ آئندہ بھی آویں اور ممکن ہے کہ امام محمد کے نام پر بھی کوئی مہدی ظاہر ہو۔لیکن (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 378، 379) جس طرز سے عوام کے خیال میں ہے اس کا ثبوت پایا نہیں جاتا۔چنانچہ یہ صرف ہماری ہی رائے نہیں اکثر محقق یہی رائے کرتے آئے ہیں۔“ ان تینوں عبارتوں سے خوب واضح ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس تفصیل کے ساتھ اور واضح دلائل کے ساتھ مسیح و مہدی کے بارہ میں بیان فرمایا ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں اٹھ سکتا اور نہ ہی کوئی اشکال اس مضمون کے بارہ میں باقی رہتا ہے اور نہ ہی اس بات کا ذرہ بھر احتمال نظر آتا ہے جوراشد علی اور اس کا پیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ہے۔البتہ مذکورہ بالا اقتباسات سے جو حقائق کھل کر سامنے آتے ہیں، یہ ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے امام مہدی کی آمد سے قطعاً انکار نہیں کیا بلکہ اس کا آنالازمی قرار دیا یہ عقیدہ عوام کا ہے جو قلت تدبر کی وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ پہلے امام محمد مہدی آویں اور ان کے بعد مسیح کا ظہور ہو۔یہ عقیدہ نہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہے، نہ حضرت امام بخاری اور حضرت امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما کا اور نہ ہی اکثر محققین کا۔مسیح موعود کے زمانہ میں مہدی معہود کے الگ وجود کے بارہ میں جس قدر حدیثیں ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک بھی مجروح اور مخدوش ہیں اور تمام محدثین کے نزدیک بھی۔اسی طرح بڑے بڑے علماء اہل سنت کے نزدیک بھی۔۴۔ان حدیثوں کے مقابل پر ابن ماجہ میں مذکور حدیث لا مهدى الأ عيسى بہت صحیح ہے۔یعنی