شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 431 of 670

شیطان کے چیلے — Page 431

429 اصول کی تعمیل ہے کہ ان اللهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (التو : 111) ترجمہ: اللہ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی۔ایسا ہی مضمون سورہ الصف کے دوسرے رکوع میں بھی بیان کیا گیا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں کے لئے جان اور چندہ کے ذریعہ، یہ جنت کی بلنگ نہیں تو اور کیا ہے؟ اس قانونِ خداوندی کا احیاء جیسا کہ مقدّ رتھا، رسول اللہ ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہوا ہے۔آپ نے اس موعود مسیح کے بارہ میں فرمایا ہے کہ 66 " فيمسح عن وجوههم ويحدثهم بدرجاتهم في الجنّة۔“ (مسلم کتاب الفتن۔باب ذکر الدجال وصفہ و مامعہ ) ترجمہ:۔وہ ان کے چہروں سے غبار صاف کریں گے اور ان کو جنت میں ان کے درجات سے مطلع کریں گے۔آنحضرت ﷺ کی اس پیشگوئی کے تحت اللہ تعالیٰ نے کشفاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایسا قبرستان دکھایا جس میں ان لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں۔آپ نے خدا تعالیٰ کی منشاء کے مطابق ایسے قبرستان کی بنیا درکھی اور فرمایا: وو میں دعا کرتا ہوں کہ خدا اس میں برکت دے اور اسی کو بہشتی مقبرہ بنادے اور یہ اس جماعت کے پاک دل لوگوں کی خوابگاہ ہو جنہوں نے درحقیقت دین کو دنیا پر مقدم کر لیا اور دنیا کی محبت چھوڑ دی اور خدا کے لئے ہو گئے اور پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کر لی اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کی طرح وفاداری اور صدق کا نمونہ دکھلایا۔آمین یا رب العالمین (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 316) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بہشتی مقبرہ میں تدفین کے لئے جو شرائط مقررفرما ئیں ان میں سے چند ایک بنیادی شرائط یہ ہیں۔ان میں دیگر اعمال صالحہ کے ساتھ مالی قربانی بھی ایک شرط ہے، محض مال کی الگ کوئی حیثیت نہیں۔تمام جماعت میں سے اس قبرستان میں وہی مدفون ہوگا جو وصیت کرے جو اس کی موت کے بعد