شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 385 of 670

شیطان کے چیلے — Page 385

383 ( باقیات اقبال۔مرتبہ سید عبد الواحد معینی ایم۔اے۔آکسن۔شائع کردہ آئینہ ادب۔انار کلی لاہور۔بار دوم صفحہ 90،73،72،71) یہ ہے اصل خوشامد ، جھوٹی تعریف اور مبالغہ آمیز عقیدت کا اظہار۔انگریزی حکومت، اہلحدیث اور دیو بندی علماء کی نظر میں اہل حدیث اور دیوبندی فرقہ جو اس وقت جماعت احمدیہ کی مخالفت میں سرفہرست ہے ، ان کے چوٹی کے عالم اور بزرگ شمس العلماء مولانا نذیر احمد دہلوی فرماتے ہیں : وو ” سارے ہندوستان کی عافیت اسی میں ہے کہ کوئی اجنبی حاکم اس پر مسلط رہے جو نہ ہندو ہو نہ مسلمان ہو کوئی سلاطین یورپ میں سے ہو۔( انگریز ہی نہیں ، جو مرضی ہولیکن ہو یورپ کا ) مگر خدا کی بے انتہا مہربانی اس کی مقتضی ہوئی کہ انگریز بادشاہ آئے۔“ ( مجموعه لیکچر ز مولانا نذیر احمد دہلوی صفحہ 5،4 مطبوعہ 1890ء) پھر فرماتے ہیں: کیا گورنمنٹ جابر اور سخت گیر ہے؟ تو بہ تو بہ ماں باپ سے بڑھ کر شفیق پھر فرماتے ہیں: ( مجموعه لیکچر ز مولانا نذیر احمد دہلوی صفحہ 19 مطبوعہ 1890ء) ” میں اپنی معلومات کے مطابق اس وقت کے ہندوستان کے والیان ملک پر نظر ڈالتا تھا اور برما اور نیپال اور افغانستان بلکہ فارس اور مصر اور عرب تک خیال دوڑاتا تھا اس سرے سے اس سرے تک ایک متنفس سمجھ میں نہیں آتا تھا جس کو میں ہندوستان کا بادشاہ بناؤں (یعنی اگر میں نے خیالات میں بادشاہ بنانا ہوتا تو کس کو بناتا ) امیدواران سلطنت میں سے اور کوئی گروہ اس وقت موجود نہ تھا کہ میں اس کے استحقاق پر نظر کرتا پس میرا اس وقت فیصلہ یہ تھا کہ انگریز ہی سلطنت ہندوستان کے اہل ہیں سلطنت انہی کا حق ہے انہی پر ( مجموعه لیکچر ز مولانا نذیر احمد دہلوی صفحه 26) بحال رہنی چاہیئے۔“ یعنی ان کی قلبی تمنا یہ تھی انگریزی حکومت ہمیشہ ہمیش کے لئے بحال رہے اور مسلمان اس کی غلامی میں رہیں۔انگریز اولوا الامر تھے ایڈیٹر رسالہ ” چٹان شورش کا شمیری صاحب لکھتے ہیں: