شیطان کے چیلے — Page 384
382 کے طور پر پیش کیا ہے اور وہ علامہ سرمحمد اقبال کی شخصیت ہے۔آپ اس زمانہ میں انگریزوں کے متعلق کہ کرتے تھے اور کیا لکھا کرتے تھے ان کے جذبات اور خیالات کیا تھے وہ ملاحظہ ہوں ملکہ وکٹوریہ کی وفات پر آپ نے ایک مرثیہ لکھا اس میں فرماتے ہیں: شاہ کی ، تعظیم کے لئے میت اٹھی ہے اقبال اڑ کے خاک ره ہو وہی ہے نام میں رکھا ہوا ہے کیا دیتے ہیں نام ماه محرم کا ہم تجھے جس مہینے میں ملکہ وکٹوریہ فوت ہوئیں اقبال کہتے ہیں کہ اس مہینہ کا نام جو مرضی رکھ لوحقیقت میں یہ محرم کے واقعہ سے مختلف نہیں ہے، محرم میں جو دردناک واقعہ گذرا تھا یہ واقعہ اس کی ایک نئی صورت ہے۔یعنی امام حسین کی شہادت اور ملکہ وکٹوریہ کی موت ایک ہی مقام اور مرتبہ کی حامل ہیں۔پھر مزید فرماتے ہیں: کہتے ہیں آج عید ہوئی اس عید ہے ہوا کرے تو موت ہی آئے خدا کرے یہ ہیں مجاہد ملت علامہ سر محمد اقبال جو احمدیت کی مخالفت میں سرفہرست شمار کئے جاتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یہ الزام لگانے میں آگے آگے ہیں کہ چونکہ آپ انگریز کی تعریف کرتے تھے اس لئے آپ انگریز کا پودا ہیں۔پھر لکھتے ہیں۔ع ” اے ہند! تیرے سر سے اٹھا سایہ خدا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر تو جھوٹے طور پر الزام لگایا جاتا ہے کہ آپ نے انگریزوں کو سایہ خدا کہا ہے جبکہ خود علامہ اقبال نے اس مرتبہ میں سایہ خدا کا لفظ استعمال کیا ہے۔اے ہند! تیرے سر اٹھا ނ سایه خدا اک غم گسار تیرے مکینوں کی تھی ، گئی رونا اسی کا ہے ہلتا ہے جس ނ عرش زینت تھی جس ނ تجھ کو جنازا اسی کا ہے