شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 374 of 670

شیطان کے چیلے — Page 374

372 اہل اسلام کو ہندوستان کے لئے گورنمنٹ انگریزی کی مخالفت و بغاوت حرام ہے۔66 اشاعۃ السنة جلد 6 نمبر 10 صفحہ 386) اس زمانہ میں بھی شرعی جہاد کی کوئی صورت نہیں ہے کیونکہ اس وقت نہ کوئی مسلمانوں کا امام الاقتصاد فی مسائل الجهاد صفحه (72) موصوف بصفات وشرائط امامت موجود ہے اور نہ ان کو ایسی شوکت جمعیت حاصل ہے جس سے وہ اپنے مخالفوں پر فتح یاب ہونے کی امید کرسکیں۔“ سرسید احمد خان صاحب نے 1857ء کے غدر میں جو لوگ شریک ہوئے ان کے متعلق فرمایا کہ: البتہ چند بد ذاتوں نے دنیا کی طمع اور اپنی منفعت اور اپنے خیالات پورا کرنے اور جاہلوں کے بہکانے کو اور اپنے ساتھ جمعیت جمع کرنے کو جہاد کا نام لے دیا۔پھر یہ بات مفسدوں کی حرام زدگیوں میں سے ایک حرامزدگی تھی نہ واقع جہاد۔“ دو 66 (رسالہ بغاوت ہند۔مؤلفہ سرسید احمد خان صفحہ 104) اعلیٰ حضرت سید احمد رضا خان صاحب بریلوی امام اہل سنت بریلوی فرقہ فرماتے ہیں: ہندوستان دار الاسلام ہے اسے دار الحرب کہنا ہرگز صحیح نہیں۔“ (نصرت الابرار۔صفحہ 29 مطبوعہ لا ہور ) انگریزوں کے خلاف جہاد نہ کرنے کا شرعی عذر حضرت سید احمد صاحب بریلوی شہید جنہوں نے جہاد کیا اور جہاد کے لئے آپ سرحد کی طرف روانہ ہوئے اور سکھوں سے بھی لڑائی کی وہ ایک مقدس دل ضرور تھا جس میں مسلمانوں کی غیرت موجزن تھی لیکن جہاں تک انگریزی حکومت کا تعلق ہے اس کے متعلق وہ کیا سمجھتے تھے اس بارہ میں آپ کے سوانح نگار محمد جعفر تھانیسری کی زبانی سنئے۔وہ سوانح احمدی کلاں“ کے صفحہ 71 پر لکھتے ہیں:۔کسی شخص نے آپ سے پوچھا کہ آپ اتنی دور سکھوں پر جہاد کر نے کیوں جاتے ہو؟ انگریز جو اس ملک پر حاکم ہیں اور دین اسلام سے کیا منکر نہیں ہیں؟ گھر کے گھر میں ان سے جہادکر کے ملک ہندوستان کو لے لو۔آپ نے فرمایا سر کار انگریزی گومنکر اسلام ہے مگر مسلمانوں پر کچھ ظلم اور تعدی نہیں کرتی۔۔۔اور نہ ان کو فرض مذہبی اور عبادت لازمی سے روکتی ہے ہم ان کے ملک میں اعلانیہ وعظ کہتے ہیں اور ترویج مذہب کرتے ہیں وہ کبھی مانع اور مزاحم نہیں ہوتی۔۔۔ہمارا اصل کام اشاعت توحید الہی ہے۔اور احیاء سنن سید المرسلین ہے۔سوہم بلا روک ٹوک اس ملک میں کرتے ہیں۔پھر ہم سرکار انگر یزی پر کس سبب سے جہاد