شیطان کے چیلے — Page 373
371 انگریزوں سے لڑنے والے مفسد اور باغی اب ان کے بڑوں کا حال سنیئے۔جو آج بڑھ بڑھ کر یہ الزام لگا رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اس وقت یہی باتیں مسلمانوں میں خفیہ طور پر پھیلایا کرتے تھے جہاں تک دنیا کے سامنے باتوں کا تعلق ہے وہ کچھ اور کہا کرتے تھے لیکن انگریزی حکومت کو اپنے عقائد سے بالکل مختلف زبان میں آگاہ کرتے تھے، ان کے سامنے ان کے عقائد بالکل کچھ اور نظر آتے تھے۔مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سب سے بڑے دشمن اور جہاد کے معاملہ میں معترض تھے لکھتے ہیں : مفسدہ 1857ء میں جو مسلمان شریک ہوئے تھے وہ سخت گناہ گار اور بحکم قرآن وحدیث وہ مفسد وو باغی بدکردار تھے۔“ پھر فرماتے ہیں: اس گورنمنٹ سے لڑنا یا ان سے لڑنے والوں کی (خواہ ان کے بھائی مسلمان کیوں نہ ہوں ) کسی 66 نوع سے مدد کر نا صریح غدر اور حرام ہے۔“ (4910 پھر اپنی کتاب اقتصاد فی مسائل الجہاد کے صفحہ 25 پر رقم طراز ہیں : وو (اشاعۃ الستة - جلد 9 نمبر اس مسئلہ اور اس کے دلائل سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ملک ہندوستان باوجود یکہ عیسائی سلطنت کے قبضہ میں ہے دارالاسلام ہے اس پر کسی بادشاہ کو عرب کا ہو خواہ عجم کا مہدی سوڈانی ہو یا حضرت سلطان شاہ ایرانی خواہ امیر خراسان ہو مذہبی لڑائی و چڑھائی کرنا ہرگز جائز نہیں۔“ یعنی ملک کے اندر جو بستے ہیں ان پر تو بادشاہ وقت کی اطاعت کرنا اور حکومت وقت کی بات ماننا فرض ہے ہی لیکن مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی یہ فتویٰ دوسرے ممالک کے لئے بھی دے رہے ہیں کہ تم جو انگریزی حکومت سے باہر بس رہے ہو تم بھی اگر انگریزی حکومت سے لڑو گے تو یہ تمہارے لئے بھی حرام ہے۔پھر فرماتے ہیں: