شیطان کے چیلے — Page 372
370 ہیں: دو جہاد کے بارہ میں قرآنی تعلیم سے منحرف تصورات تو پس یہ تو آنحضرت ﷺ کا ہی ارشاد ہے۔پھر آپ " تحفہ قیصریہ کے صفحہ 10 پر تحریر فرماتے اور دوسرا اصول جس پر مجھے قائم کیا گیا ہے وہ جہاد کے اس غلط مسئلہ کی اصلاح ہے جو بعض نادان مسلمانون میں مشہور ہے۔سو مجھے خدا تعالیٰ نے سمجھا دیا ہے کہ جن طریقوں کو آجکل جہاد سمجھا جاتا ہے وہ قرآنی تعلیم سے بالکل مخالف ہیں۔بیشک قرآن شریف میں لڑائیوں کا حکم ہوا تھا جو موسیٰ کی لڑائیوں سے زیادہ معقول اور بیشوع بن نون کی لڑائیوں سے زیادہ پسندیدگی اپنے اندر رکھتا تھا اور اس کی بناء صرف اس بات پر تھی کہ جنہوں نے مسلمانوں کے قتل کرنے کے لئے ناحق تلوار میں اٹھا ئیں اور ناحق کے خون کئے اور ظلم کو انتہا تک پہنچا یا ان کو تلواروں سے ہی قتل کیا جائے۔" تحفہ قیصریہ۔روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 262) یہ ہے خلاصہ اس قرآنی تعلیم کا جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں ملتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: أذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَانَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرٌ الَّذِيْنَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقَّ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ - ( ج:۱۳،۰۳) ترجمہ:۔وہ لوگ جن سے ( بلا وجہ ) جنگ کی جارہی ہے ان کو بھی ( جنگ کرنے کی ) اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور اللہ ان کی مدد پر قادر ہے ( یہ وہ لوگ ہیں ) جن کو ان کے گھروں سے صرف ان کے اتنا کہنے پر کہ اللہ ہمارا رب ہے بغیر کسی جائز وجہ کے نکالا گیا۔کوئی عالم دین ہے؟ جو ان باتوں میں سے آج بھی کوئی غلط ثابت کر کے دکھائے اور بتائے کہ کہاں اعتراض کی گنجائش ہے محض ایک فرضی اور جھوٹی بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف دیدہ دانستہ منسوب کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے خود آپ کی کتابوں کو پڑھا ہوا ہے مگر پھر بھی یہ سارے پہلو چھپاتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو انگریزوں نے جہاد کی تنسیخ کے لئے کھڑا کیا تھا اور اگر آپ کھڑے نہ ہوتے تو انگریز مارا جاتا اور مسلمانوں نے سلطنت انگریزی کو تباہ کر کے رکھ دینا تھا اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان سے جہاد کر نامنع نہ فرماتے۔