شیطان کے چیلے — Page 370
368 جواب دے؟ نادانوں نے جہاد کا نام سن لیا ہے اور پھر اس بہانہ سے اپنی نفسانی اغراض کو پورا کرنا چاہا ہے۔“ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 12، 13 ) جہاد بالسیف کی شرائط مفقود ہیں پس یہ وہ جہاد کا تصور ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حرام قرار دیا ہے علماء میں سے آج کون ہے جو اس کو آج بھی حلال کہ سکتا ہے۔اس لئے جھوٹے الزام لگا رہے ہیں۔جس چیز کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حرام کیا ہے وہ مخالفین کے اپنے تصورات تھے۔لیکن ان کے یہ تصورات اب ظاہر ہورہے ہیں اس وقت وہ خفیہ باتیں کیا کرتے تھے اور جہاں تک انگریزی حکومت کا تعلق ہے اس کو مخاطب کر کے جہاد کا وہی تصور بتاتے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے، اس مضمون کے متعلق ابھی چند اقتباس آگے پیش کئے جائیں گے تب آپ اندازہ کر سکیں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کیسے کیسے مخالفین سے واسطہ پڑا تھا۔خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو یونہی تو نہیں چنا کرتا اور ان سے پیار کیا کرتا بلکہ وہ انہیں نہایت ہی دکھوں اور مصیبتوں کے ابتلاء میں ڈالتا ہے، انہیں نہایت ہی ظالموں کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے اور وہ صبر سے کام لیتے ہیں تب خدا کے حضور مقدس اور پاکیزہ گنے جاتے ہیں اور ان لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جو خدا کو پیارے ہوا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: 66 " فرفعت هذه السنة برفع اسبابها في هذه الايام “ کہ تلوار کے ساتھ جہاد کے شرائط پائے نہ جانے کے باعث موجودہ ایام میں تلوار کا جہاد نہیں رہا۔پھر فرمایا: " وأمرنا ان نعد للكافرين كما يعدّون لنا ولا نرفع الحسام قبل ان نقتل بالحسام “ اور ہمیں یہی حکم ہے کہ ہم کافروں کے مقابل میں اس قسم کی تیاری کریں جیسی وہ ہمارے مقابلہ کے لئے کرتے ہیں یا یہ کہ ہم کافروں سے ایسا ہی سلوک کریں جیسا وہ ہم سے کرتے ہیں اور جب تک وہ ہم پر تلوار نہ اٹھا ئیں اس وقت تک ہم بھی ان پر تلوار نہ اٹھائیں۔“ (حقیقۃ المہدی۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 454) پھر فرماتے ہیں: 66 اس زمانہ میں جہاد روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے اور اس زمانہ میں جہاد یہی ہے کہ اعلاء