شیطان کے چیلے — Page 369
367 خلاف آپ نے جہاد کا علم بلند کیا۔سو واضح ہو کہ بعض جاہل علماء اور پادریوں کے غلط تصورات تھے جن کے خلاف آپ نے آواز بلند کی ہے۔ان علماء کے غلط تصورات کے نتیجہ میں اسلام کو تو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچنا تھا کیونکہ ان میں لڑنے کی کوئی طاقت ہی نہیں تھی ہاں نقصان کے بہت سے اندیشے اور خطرات تھے جو ان کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے تھے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: " سبحان اللہ ! وہ لوگ کیسے راست باز اور نبیوں کی روح اپنے اندر رکھتے تھے کہ جب خدا نے مکہ میں ان کو یہ حکم دیا کہ بدی کا مقابلہ مت کرو اگر چہ ٹکڑے ٹکڑے کئے جاؤ۔پس وہ اس حکم کو پا کر شیر خوار بچوں کی طرح عاجز اور کمزور بن گئے گویا نہ ان کے ہاتھوں میں زور ہے نہ ان کے بازوؤں میں طاقت۔بعض ان میں سے اس طور سے بھی قتل کئے گئے کہ دو اونٹوں کو ایک جگہ کھڑا کر کے ان کی ٹانگیں مضبوط طور پر ان اونٹوں سے باندھ دی گئیں اور پھر اونٹوں کو مخالف سمت میں دوڑایا گیا۔پس وہ اک دم میں ایسے چر گئے جیسے گا جریا مولی چیری جاتی ہی۔مگر افسوس کہ مسلمانوں اور خاص کر مولویوں نے ان تمام واقعات کو نظر انداز کر دیا ہے اور اب وہ خیال کرتے ہیں کہ گویا تمام دنیا ان کا شکار ہے اور جس طرح ایک شکاری ایک ہرن کا کسی بن میں پتہ لگا کر چھپ چھپ کر اس کی طرف جاتا ہے اور آخر موقع پا کر بندوق کا فائر کرتا ہے یہی حالات اکثر مولویوں کے ہیں۔انہوں نے انسانی ہمدردی کے سبق میں سے کبھی ایک حرف بھی نہیں پڑھا بلکہ ان کے نزد یک خواہ مخواہ ایک غافل انسان پر پستول یا بندوق چلا دینا اسلام سمجھا گیا ہے۔۔۔وہ لوگ کہاں ہیں جو صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرح ماریں کھائیں اور صبر کریں۔کیا خدا نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم خواہ مخواہ بغیر ثبوت کسی جرم کے ایسے انسان کو کہ نہ ہم اسے جانتے ہیں اور نہ وہ ہمیں جانتا ہے غافل پا کر چھری سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں یا بندوق سے اس کا کام تمام کریں۔کیا ایسا دین خدا کی طرف سے ہوسکتا ہے جو یہ سکھاتا ہے کہ یونہی بے گناہ ، بے جرم ، بے تبلیغ خدا کے بندوں کو قتل کرتے جاؤ ، اس سے تم بہشت میں داخل ہو جاؤ گے۔افسوس کا مقام ہے اور شرم کی جگہ ہے کہ ایک شخص جس سے ہماری کچھ سابق دشمنی بھی نہیں بلکہ روشناسی بھی نہیں وہ کسی دوکان پر اپنے بچوں کے لئے کوئی چیز خرید رہا ہے یا اپنے کسی اور جائز کام میں مشغول ہے اور ہم نے بے وجہ بے تعلق اس پر پستول چلا کر ایک دم میں اس کی بیوی کو بیوہ اور اس کے بچوں کو یتیم اور اس کے گھر کو ماتم کدہ بنادیا۔یہ طریق کس حدیث میں لکھا ہے یا کس آیت میں مرقوم ہے؟ کوئی مولوی ہے جو اس کا