شیطان کے چیلے — Page 320
319 اس کا ظہور بعینہ آنحضرت ا کا ظہور تھا۔(تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 263) جیسا کہ پانی یا آئینہ میں ایک شکل کا جو عکس پڑتا ہے اس عکس کو مجاز آ کہہ سکتے ہیں کہ یہ فلاں شخص ہے۔ایسے شخص کو مثیل ہلکس، ہم صفت ہونے کے سبب بروزی طور پر اصل کا نام دینے کا محاورہ امت میں ابتداء سے آج تک مستعمل ہے۔چنانچہ اس محاورہ کو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنے بارے میں استعمال فرمایا ہے۔را شد علی اور اس کے پیر کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان تحریروں سے سخت تکلیف ہے جن میں آپ نے خود کو آنحضرت ﷺ کا فلن اور بروز اور پھر اپنی بعثت کو آنحضرت ﷺ کی دوسری بعثت قرار دیا۔اس لئے ان کی تکلیف کو دور کرنے کے لئے ان کی توجہ ہم ایک بار پھر آئمہ سلف اور بزرگانِ امت کے ان اقوال کی طرف مبذول کراتے ہیں جو ہم اسی باب میں نمبر ۵ میں نبی اللہ محمد اور احمد“ کے عنوان کے تحت درج کر آئے ہیں۔تا کہ یہ مسئلہ ایک بار اچھی طرح ان کی سمجھ میں داخل ہو جائے۔قارئین کرام! ایسی تحریریں امت مسلمہ کے لٹریچر میں کثرت سے موجود ہیں جن میں آنحضرت ﷺ کی بعثت ثانیہ کا ذکر ہے۔اور آنے والے موعود کو اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی اللہ کا فضل اور بروز قرار دیا گیا ہے۔معزز قارئین ! راشد علی وغیرہ کو چونکہ امت محمدیہ میں ایسی شان کے آدمی پیدا ہونے پر شدید اعتراض ہے۔اس لئے ہم اب دیو بندیوں کے بزرگ قاری محمد طیب صاحب مہتمم دار العلوم دیو بند کے الفاظ یاد دلاتے ہیں کہ ان سب کا یہ عقیدہ ہے کہ اگر عیسی علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائے تو نہ صرف حضرت محمد کے عین اور بروز ہوں گے بلکہ مناسبت کاملہ کی وجہ سے شانِ خاتمیت بھی رکھتے ہوں گے۔چنانچہ آپ امت میں آنے والے مسیح کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : صلى اللهم وو بہر حال اگر خاتمیت میں حضرت مسیح علیہ السلام کو حضور سے کامل مناسبت دی گئی تھی تو اخلاق خاتمیت اور مقام خاتمیت میں بھی مخصوص مشابہت و مناسبت دی گئی جس سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت عیسوی کو بارگاہ محمدی سے خـلـقـاً وخلقاً رتباً ومقاماً ایسی ہی مناسبت ہے جیسی کہ ایک چیز کے دو شریکوں میں یا باپ بیٹوں میں ہونی چاہئے۔“