شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 321 of 670

شیطان کے چیلے — Page 321

320 ( تعلیمات اسلام اور مسیحی اقوام - صفحه 129 از قاری محمد طیب مہتم دارالعلوم دیو بند پاکستان ایڈیشن اول مطبوعہ مئی 1986ء) پس اب تو راشد علی وغیرہ کے سارے رنگ ڈھل جانے چاہئیں اور طبیعت صاف ہو جانی چاہئے الله کیونکہ جس ذات کو اپنے آقا و مولیٰ رسول اللہ ﷺ سے خلقاً، خُلقاً،رتب اور مقاماً منا سبت ہواس پران کا اعتراض جھوٹا ہی نہیں منافی اسلام بھی ہے۔حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کو خلقاً، خُلقاً، رتباً اور مقاماً جو کچھ بھی میسر آیا وہ آپ کے سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کا ہی فیض تھا جس کے بارہ میں آپ فرماتے ہیں: ” وہی ہے جو سر چشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے وہ انسا نہیں بلکہ ذریت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کیا گیا ہے۔جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم از لی ہے۔ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے؟ ہم کا فرنعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد نمبر 22 صفحہ 119 ) میسر آیا ہے۔“ اسی طرح آپ اپنی جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: آخری وصیت یہی ہے کہ ہر ایک روشنی ہم نے رسول نبی امی کی پیروی سے پائی ہے اور جو شخص پیروی کرے گا وہ بھی پائے گا۔“ نیز آپ فرماتے ہیں: (سراج منیر۔روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 28) یہ تمام شرف مجھے صرف ایک نبی کی پیروی سے ملا ہے جس کے مدارج اور مراتب سے دنیا بے خبر ہے یعنی سید نا حضرت محمد مصطفی ہے پھر آپ فرماتے ہیں: (چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 354) ” میں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پایا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی۔اور میرے لئے اس نعمت کا پاناممکن نہ تھا اگر میں