شیطان کے چیلے — Page 4
4 السبع المثاني انا القرآن و وروح الروح لا روح الاوانی کہ میں قرآن کریم ہوں اور میں سبع المثانی ہوں۔(فتوحات مکیہ - جلد 1 صفحہ 9۔مطبوعہ دار صادر بیروت ) نیز کیا عنوان لگائیں گے حضرت بایزید بسطامی کے ان فرمودات پر کہ ان سے جب پوچھا عرش کیا ہے؟ کہا میں ہوں ! پوچھا کرسی کیا ہے؟ کہا میں ہوں ! پوچھالوح وقلم کیا ہے؟ کہا میں ہوں ! پوچھا خدا عز وجل کے بندے ہیں ابراہیم و موسیٰ محمد علیہم الصلوۃ والسلام؟ کہا وہ سب میں ہوں ! پوچھا کہتے ہیں خدا عز وجل کے بندے ہیں جبرائیل، میکائیل، اسرافیل ، عزرائیل علیہ السلام؟ کہا ( تذکرۃ الاولیاء اردو۔باب 14 ص 128 شائع کردہ شیخ برکت علی اینڈ سنز ) وہ سب میں ہوں ! اور پھر یہ پیر اور مرید کیا نام دیں گے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کو جنہوں نے دعوے کئے کہ تعلیم اسماء مردم را من بودم و آنچه برنوح طوفان شد و سبب نصرة او شد من بودم آنچه ابراهیم را گلزار گشت من بودم توریت موسی من بودم احیاء عیسی میت را من بودم قرآن مصطفیٰ من بودم والحمد لله ربّ العالمین (التفہیمات الالہیہ۔جلد نمبر 1 صفحہ 18۔مطبوعہ مدنیہ برقی پریس بجنور ) ترجمہ۔میں اسماء کی تعلیم تھا اور طوفان نوح کے وقت جو نصرت آئی وہ میں تھا، ابراہیم پر جب آگ گلزار ہوئی تو وہ میں تھا، موسیٰ کی توریت میں تھا، میسی کا احیائے موتی میں تھا اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کا قرآن میں تھا۔قارئین کرام ! راشد علی اور اس کے پیر کی الٹی منطق کا آپ نے ایک حد تک اندازہ تو لگالیا ہوگا۔لیکن اصل حقیقت یہ ہے اور اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ "كثرة الاسماء تدلّ على شرف المسمى وفضله ( تفسیر الخازن۔جزو اول صفحہ 1 تفسیر سورہ الفاتحہ) کہ ناموں کی کثرت مسمی کے بلند مقام ، بزرگی اور اس کی فضیلت کا ثبوت ہے۔اسی وجہ سے