شیطان کے چیلے — Page 3
3 نے اس کی سوچ سے محظوظ ہوتے ہوئے مسکرا کر فرمایا کہ کیا وہ تمہارا ماموں نہ ہوا۔اگر خدانخواستہ یہ پیر اور مرید وہاں ہوتے تو نجانے کیا کیا تبصرے اس شخص کے بارہ میں کر جاتے جو ایک پہلو سے اس بچے کا ماموں تھا اور ایک پہلو سے اس کی ماں کا بھائی تھا۔وہ عرب بھی تھا اور حجازی بھی ان پیرومرید کے نزدیک کسی کے بکثرت دعاوی اور اس کے مراتب ومناصب اور صفاتی نام اس کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہیں۔حضرت مرزا صاحب پر ان کے اس نوع کے حملہ سے یہ تو قطعی طور پر واضح ہے کہ ان پر صرف عقل کی مار ہی نہیں پڑی، بلکہ ان کے دل میں ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی بھی ذرہ بھر محبت نہیں اور نہ ہی آپ کے مقام بلند ، آپ کے دعاوی ، آپ کے منصب اور صفاتی ناموں کا کوئی پاس ہے۔ورنہ حضرت مرزا صاحب کی دشمنی میں آپ پر حملہ کرتے ہوئے یہ ضرور سوچتے کہ اس کی زد در اصل مظہر ذات خدا محبوب کبریا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذات بابرکات پر پڑتی ہے۔قبل اس کے کہ اس کی تفصیل بیان کریں، ہم قارئین کی خدمت میں چند بزرگانِ امت کے دعاوی پیش کرتے ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان دعاوی اور ناموں کی کثرت سے ان کے مقام و مرتبہ کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے ،ان کے منصب و مقام میں کمی واقع نہیں ہوتی۔اگر یہ دعوے ایسے ہی قابلِ اعتراض ہیں اور مدعی کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہیں جس طرح راشد علی اور اس کا پیر بیان کرتے ہیں اور ان پر وہی نام صادق آتا ہے جو انہوں نے اس اعتراض کو دیا ہے تو ہم تو اس سے بیزاری کا اعلان کرتے ہیں لیکن اس پیر اور اس کے مرید سے یہ پوچھتے ہیں کہ وہ حضرت شمس الدین تبریز کو کیا کہیں گے جو فر ماتے ہیں ہم نوح و ہم آدم تو کی ہم عیسی کمریم توئی ہمراز و ہم محرم توئی چیزے بدہ درویش را دیوان حضرت شمس تبریز صفحه 6 مطبع نامی منشی نولکشور لکھنو ) کہ تو ہی نوح ہے، تو ہی آدم ہے اور تو ہی عیسی مریمی ہے۔اور پھر حضرت ابن عزلی پر کیا فتویٰ صادر فرما ئیں گے۔جنہوں نے فرمایا: